خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 27
خطبات طاہر جلد ۱۰ 27 خطبہ جمعہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء قتل عام کئے گئے ،لوٹ مار کی گئی۔ہر قسم کے مظالم جو آج عراق کی طرف منسوب کئے جاتے ہیں ان سے بہت بڑھ کر ، بہت زیادہ وسیع علاقے میں اسی خاندان نے عراق کے علاقے میں کئے لیکن وہاں سے طاقت پکڑنے کے بعد پھر ارض مقدس کی طرف رخ کیا اور طائف پر قبضہ کر لیا ارض حجاز میں اور ۱۹۰۳ء میں یہ مکہ اور مدینہ میں داخل ہو گئے اور مکہ اور مدینہ میں داخل ہونے کے بعد وہاں قتل عام کیا گیا اور بہت سے مزار گرادیئے گئے اور بہت سی مقدس نشانیاں اور مقامات مثلاً حضرت محمد ﷺ کا مولد ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا مولد وغیرہ اس قسم کے بہت سے مقدس حجرے اور مقامات تھے جن کو یا تو منہدم کر دیا گیا یا ان کی شدید گستاخی کی گئی اور یہ ظاہر کیا گیا کہ اسلام میں ان ظاہری چیزوں کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہے یہ سب شرک ہے اور جو خون خرابہ ہوا ہے اس کا کوئی معین ریکار ڈ نہیں لیکن تاریخیں یکھتی ہیں کہ بالکل نہتے اور بے ضرر اور مقابلے میں نہ آنے والے شہریوں کا بھی قتل عام بڑی بے دردی سے کیا گیا ہے۔۱۸۱۳ء میں شریفان مکہ نے پھر اس علاقے کو سعودیوں سے خالی کروالیا اور پھر بیسویں صدی کے آغاز میں دوبارہ سعودیوں نے ارض حجاز پر یلغار کی اور اس دفعہ انگریزوں کی پوری طاقت ان کے ساتھ تھی۔انگریزی جرنیل با قاعدہ ان کی پیش قدمی کی سکیمیں بتاتے تھے اور انگریز ہی ان کو اسلحہ اور بندوقیں مہیا کرتے تھے اور انگریز ہی روپیہ پیسہ مہیا کرتے تھے۔اور باقاعدہ ان کے ساتھ معاہدے ہو چکے تھے چنانچہ ۱۹۲۴ء میں دوبارہ سعودی خاندان ارض حجاز پر قابض ہوا اور اس قبضے کے دوران بھی بہت زیادہ مقدس مقامات کی بے حرمتی کی گئی اور قتل عام ہوا ہے۔۱۹۲۴ء میں انگریزوں کی تائید سے چونکہ یہ داخل ہوئے تھے اس لئے حال ہی میں جو BBCنے Documentry دکھائی اس میں ۲۴ ء سے پہلے کی بھی انگریزی تائید کا ذکر کرتے ہوئے BBC کے پروگرام پیش کرنے والے نے یہ موقف لیا کہ جس ملک پر سعودیوں نے ہماری تائید سے اور ہماری قوت سے قبضہ کیا تھا اب اس ملک کے دفاع کے لئے ہم پر ہی انحصار کرنے پر مجبور ہیں۔پس اس نقطہ نگاہ سے اگر دیکھا جائے تو بات بالکل اور شکل میں دکھائی دینے لگتی ہے۔جو بھی حکومت اس وقت مقامات مقدسہ پر قابض ہے وہ انگریز کی طاقت سے قابض ہوئی تھی یا مغربی قوموں کی طاقت سے قابض ہوئی تھی۔اور اب دفاع کے لئے بھی ان میں یہ استطاعت نہیں ہے کہ