خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 28 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 28

خطبات طاہر جلد ۱۰ 28 خطبہ جمعہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء ان مقامات کا دفاع کر سکیں اور مجبور ہیں کہ ان قوموں کو واپس اپنی مدد کے لئے بلائیں۔اب انگریز کا تصور اس طرح کا نہیں جو اس سے پہلے کا تھا۔تمام دنیا پر انگریز کی ایک قسم کی حکومت تھی۔اب انگریز اور امریکہ ایک دوسرے کے ساتھ مدغم ہو چکے ہیں۔ان کے تصورات یکجا ہو چکے ہیں اور عملاً جو امریکہ ہے وہ انگریز ہے اور جو انگریز ہے وہ امریکہ ہے۔یعنی جو انگلستان ہے وہ امریکہ ہے اور جو امریکہ ہے وہ انگلستان ہے۔تو اس پہلو سے انگریز نے اپنی تاریخ کا ورثہ امریکہ کے سپرد کیا ہوا ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس دور میں ان کے فیصلے ہمیشہ ایک ہوا کرتے ہیں۔یورپ اس سے کچھ مختلف ہے لیکن اس تفصیل میں جانے کی بہر حال ضرورت نہیں ہے۔خلاصہ کلام یہ بنتا ہے کہ ارض مقدس اور مکہ معظمہ اورمدینہ منورہ کے احترام کی با تیں کرتے ہوئے جو عالم اسلام کو ان مقدس مقامات کے دفاع کے لئے اکٹھا کیا جا رہا ہے یہ سب محض ایک دھوکہ ہے۔ان مقدس مقامات کی حفاظت کے ساتھ دوسرے مسلمان ممالک کی فوجی شمولیت کا کوئی بھی تعلق نہیں ہے۔نہ ان کی ضرورت ہے نہ اس کا کوئی تعلق ہے نہ فی الحقیقت کوئی خطرہ لاحق ہے۔اگر ان علاقوں کو خطرہ لاحق ہے تو غیر مسلموں سے لاحق ہو سکتا ہے۔مسلمانوں سے اگر خطرہ لاحق ہوسکتا تھا تو وہ خطرہ تو خود سعودیوں سے لاحق ہو چکا ہے اور اس خطرے میں جب تک انہوں نے غیر مسلموں کی مدد نہیں لی اس وقت تک ان علاقوں پر قبضہ نہیں کر سکے۔پس امر واقعہ یہی ہے کہ اب ان علاقوں کا دفاع بھی غیر مسلموں کے سپر دہی ہوا ہے اور مسلمان ریاستیں شامل ہوں یا نہ ہوں اس دفاع سے اس کا کوئی تعلق نہیں یعنی اس امکانی دفاع سے دفاع کا تو ابھی سوال ہی پیدا نہیں ہوا۔امکان ہے۔لیکن اگر آپ دیانتداری سے غور کریں تو اس بات کا کوئی احتمال ہی نہیں ہے کہ عراق سعودی عرب پر حملہ کر دے۔عراق کے پاس تو اتنی طاقت بھی نہیں کہ وہ ان بڑی بڑی طاقتوں کے اجتماعی حملے سے اپنے آپ کو بچا سکے اور سب دنیا تعجب میں ہے کہ یہ غیر متوازن حالت دیکھتے ہوئے صدر صدام حسین کس طرح یہ جرأت کر سکتے ہیں کہ بار بار امن کی ہر کوشش کو رد کرتے چلے جاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اس عظیم دباؤ کے نتیجہ میں وہ اس طرح پیسے جائیں گے جس طرح چکی کے اندر دانے پیسے جاتے ہیں اور ناممکن ہے کہ اتنی بڑی قوموں کی اجتماعی طاقت کے مقابل پر عراق کو میت کا یا اپنے ملک کا دفاع کر سکے۔جو عالمی فوجی ماہرین ہیں یہ ان کی رائے ہے اور سب متعجب ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے۔آخر صدر صدام حسین کے