خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 303 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 303

خطبات طاہر جلد ۱۰ 303 خطبہ جمعہ ۱۲ اراپریل ۱۹۹۱ء اهْدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ منعم علیہ گروہ کی دعاؤں کا ایمان افروز تذکرہ ( خطبه جمعه فرموده ۱۲ را پریل ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) ۱۲/ تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔مسافر گاڑیاں جب مختلف سٹیشنوں پر رکتے رکتے اپنا لمبا سفر طے کرتی ہیں تو ہر سٹیشن پر الگ الگ نظارہ ہوتا ہے کہیں تھوڑے مسافر چڑھتے ہیں، کہیں زیادہ مسافر چڑھتے ہیں۔کہیں تھوڑے لوگ چھوڑنے کے لئے آئے ہوئے ہوتے ہیں کہیں زیادہ لوگ۔جو بڑے بڑے سٹیشن ہیں ان پر بہت رونق ہوتی ہے اور جب تک گاڑی چلتی نہیں سارا سٹیشن مختلف لوگوں کی گہما گہمی سے پر رونق ہوا ہوتا ہے ، چہل پہل ہوتی ہے، باتیں ہو رہی ہوتی ہیں پھر گاڑی چلی جاتی ہے تو سٹیشن سونا سارہ جاتا ہے۔کچھ لوگ ایسے ہیں جو مسافر نہیں ہوتے صرف مسافروں سے ملنے کے لئے آئے ہوتے ہیں۔جمعۃ الوداع کی بھی کچھ ایسی ہی صورت ہے۔عبادت کرنے والوں کی گاڑی جو جمعہ بہ جمعہ ٹھہرتی ٹھہرتی آخر رمضان المبارک کے جمعوں میں داخل ہوتی ہے تو اچانک جمعوں پر رونق بڑھنے لگتی ہے اور پھر ایک ایسا جمعہ بھی آتا ہے جیسا آج ہے جسے جمعۃ الوداع کہا جاتا ہے اس جمعہ پر تو اتنی رونق ہوتی ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ سارے مسافر ہیں جو اس گاڑی پر چڑھنے کے لئے آئے ہیں لیکن جب یہ گاڑی یہاں سے گزر کر اگلے جمعہ پر پہنچتی ہے جو رمضان مبارک کے بعد آتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مسافر تو وہی چند ایک ہی تھے جو سارا سال سفر کرتے رہے باقی تو چھوڑنے کے لئے آئے