خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 299

خطبات طاہر جلد ۱۰ 299 خطبه جمعه ٫۵اپریل ۱۹۹۱ء رزق پر ہی قانع رہے اور ان لوگوں کے رستے پر چلا جنہوں نے شیطان کی پیروی سے انکار کر دیا اور پھر ان لوگوں کے رستے پر چلا جنہوں نے جب مجھے آواز دی کہ اے خدا تو کہاں ہے تو نے تو ہر آواز کے مقابل پر یہ جواب دیا اِنّي قَرِيب ، اِنّي قَرِيب اے میرے پکارنے والے بندے میں تیرے قریب ہوں۔میں تیرے قریب ہوں۔اے خدا ! ہمیں مناسک حج اور عمرہ ادا کرنے والوں کی راہ پر چلا اے خدا! ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلا جنہوں نے اپنی زندگی کا راز راہ تقویٰ بنالیا اور خواہ ان کے پاس کچھ اور نہیں تھا۔انہوں نے ہمیشہ اس یقین کے ساتھ تیری راہ میں قدم آگے بڑھائے کہ سب سے زیادہ جس زاد راہ کی ضرورت پیش آسکتی تھی وہ تقویٰ ہے۔چنانچہ تقویٰ سے انہوں نے دامن بھر لیا اور خالی ہاتھ تیری راہ میں سفر اختیار نہیں کیا۔اے خدا!! ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلا کہ جب وہ تیری راہ میں لوگوں کو جانیں دیتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کو مردہ نہیں کہتے بلکہ وہ یقین کرتے ہیں کہ وہ زندہ جاوید ہو گئے۔اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے رستہ پر چلا جنہیں تیری خاطر دیکھ دیئے جاتے ہیں ان کے اموال چھینے جاتے ہیں۔ان کی جانیں تلف کی جاتی ہیں خوف اور بھوک ان پر مسلط کی جاتی ہے لیکن وہ تیری راہوں کے مسافر صبر کے ساتھ انا للہ وانا الیہ راجعون کہتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔تو ان پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرماتا ہے اور انہیں ہی بچے اور ہدایت یافتہ قرار دیتا ہے۔اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے راستے پر چلا جنہوں نے زخم پر زخم کھائے لیکن اس کے باوجود تیری اور تیرے رسول کی ہر آواز پر لبیک کہا۔زخموں سے چور ہونے کے باوجود جب ان کے کانوں میں تیری یا تیرے رسول کی آواز پڑی تو لبیک کہتے ہوئے وہ اس کی طرف لیکے اور ان میں سے وہ خوش نصیب جنہوں نے اپنے اعمال کو کئی طرح سے زینت دی اور تیرا تقویٰ اختیار کیا اور تیری بارگاہ میں عظیم اجر کے لائق ٹھہرے۔یہ واقعات ہیں جن کا قرآن کریم میں ذکر ہے۔یہ کوئی افسانے اور قصے نہیں ہیں۔پس جب ہم کہتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے رستے پر چلا جن پر تو نے انعام کیا تو یہ سارے واقعات ایک فلم کی طرح ہمارے ذہن میں گھومنے چاہئیں اور وہ شخص جو قرآن کریم کا مطالعہ کرتا ہے