خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 291
خطبات طاہر جلد ۱۰ 291 خطبه جمعه ۵ / اپریل ۱۹۹۱ء خدا میثاق قرار دیتا ہے اس پر عمل کرنے سے پہلے، اس پر دستخط کرنے سے پہلے معلوم تو ہونا چاہئے کہ کس بات پر دستخط کئے جارہے ہیں لیکن چونکہ دنیا والے غلطیوں کو معاف نہیں کیا کرتے اور ایک ایک قطرہ خون کا حساب مانگتے ہیں اس لئے دنیا کے معاہدوں میں تو انسان غلطی کرے تو ساری عمر اس کا خمیازہ بھگتا رہتا ہے لیکن یہ معاہدہ ایک ایسی ذات سے کیا جا رہا ہے جو بے حد غفور و رحیم ہے جو قدم قدم پر بخشش کے وعدے بھی کرتی ہے۔وہ عجیب طرح سے حساب کرتی ہے۔اچھا! یہ بھی میں معاف کر دیتا ہوں یہ بھی میں معاف کر دیتا ہوں۔یہ بھی معاف کر دیتا ہوں اور یہ بھی معاف کر دیتا ہوں یہاں تک کہ اس کی معافیوں کا سلسلہ اس کے حساب طلب کرنے والے سلسلے پر غالب آجاتا ہے اور اس کی رحمت ہر انسان کی لغزش کو ڈھانپ لیتی ہے پس اگر اور نہیں تو یہ مضمون ہی انسان کے دل کے لئے تسلی کا موجب بن جاتا ہے کہ ہمارا خدا ایسا خدا ہے جوا گر چاہے تو ان کو بھی معاف فرما دیتا ہے جن کے اعمال تمام تر اچھے نہیں تھے۔انہوں نے بدیاں بھی کیں اور اچھے اعمال بھی کیئے۔اچھوں اور بروں کو ساری عمر ملائے رکھا اور کبھی ان کو تو بہ کی یہ توفیق نہیں ملی کہ زندگی کے کسی موقعہ پر وہ یہ کہ سکیں کہ اب ہم اپنی بدیاں جھاڑ کر نیکیوں میں داخل ہو چکے ہیں۔عمر بھر وہ نیکیوں اور بدیوں کے ساتھ ملے جلے رہے اور اسی طرح گھسٹتے گھسٹتے خدا کے قرب کی راہوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے فرمایا: میں چاہوں تو انہیں پکڑ لوں اور ان کی بدیوں کی سزا دوں اور اگر چاہوں تو ان کو معاف کر دوں اور بہت ایسے ہیں جن کو میں معاف بھی کر دیتا ہوں تو پھر انسان اس بات سے سہارا لیتا ہے کہ میثاق پر ہم دستخط تو کر بیٹھے ہیں لیکن اب اس میثاق کی شرائط پر پورا اتر نیوالے جو اولین لوگ ہیں جو سابقون کا گروہ ہے ان جیسے نہ بھی بن سکتے ہوں تو ہم یہ التجائیں کریں گے کہ اے خدا! ان ادفی لوگوں میں ہی شامل فرمادے جنہوں نے عمر بھر دیانتداری سے میثاق پر عمل نہیں کیا تو میثاق پر عمل کرنے کی تمنا تو رکھتے تھے۔کوئی خواہش تو ان کے دل میں تھی۔بے چینی تو ہوا کرتی تھی جب وہ گناہ کرتے تھے تو بے قرار ضرور ہو جایا کرتے تھے۔گناہوں کے بعد مطمئن نہیں رہتے تھے بلکہ تڑپ کر زندگی گزارتے تھے۔پس اے خدا! ہمیں ان لوگوں میں ہی شامل فرمادے اور اگر قافلے کے سر پر چلنے والوں میں شامل نہیں تو اس قافلے کے آخر پر اس کی دم میں گھسٹتے ہوئے لوگوں میں ہی شامل فرما دے لیکن رستہ وہ ہو۔اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کہ جن پر تو نے انعام کیا الْمَغْضُوبِ کے رستے پر ہمیں نہ ڈالنا۔