خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 292
خطبات طاہر جلد ۱۰ 292 خطبہ جمعہ ۵/ اپریل ۱۹۹۱ء پس اب میں آپ کو لکھے ہوئے مضمون میں قرآن کریم کے واقعات کو دعاؤں کی شکل میں ڈھال کر پیش کرتا ہوں۔قرآنی آیات میں یہ مضمون دعاؤں کی صورت میں ظاہر نہیں فرمایا گیا مگر قرآن سے واقعات لے کر اور قرآن کی نصیحتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے او امر اور نــواهــی کو پیش نظر رکھتے ہوئے میں چند نمونے آپ کے سامنے رکھتا ہوں کہ جب ہم اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ! کہتے ہیں تو وہ کون سے انعام یافتہ لوگ ہیں جن کے رستے پر چلنے کی ہم دعا کرتے ہیں۔گویا ہم یہ دعا کرتے ہیں کہ اے خدا! ہمیں ان انعام یافتہ لوگوں کے رستے پر چلا جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نمازوں کو قائم کرتے ہیں اور جو کچھ بھی تو نے ان کو عطا کیا ہے اسے تیری راہ میں خرچ کرتے چلے جاتے ہیں اور حضرت محمد مصطفی ﷺ پر اتاری ہوئی تعلیم پر اور سب گزشتہ تعلیمات پر ایمان لاتے ہیں اور آئندہ ہونے والی موعود خبروں پر بھی یقین رکھتے ہیں اور اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے رستے پر چلا جو اپنی مرادوں کو پالیتے ہیں۔اور اے خدا! ہمیں ان لوگوں کے رستوں پر چلا جنہوں نے تجھے اپنا بھی رب تسلیم کیا اور ان کا رب بھی تسلیم کیا جو پہلے گزر چکے تھے اور تقویٰ کی راہوں پر چلے۔اے خدا! ہمیں ان لوگوں کی راہ دکھا جن کو تو نے سدا بہار جنتوں کی بشارت دی ہے جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔اور اے خدا! ہمیں ان لوگوں کی راہ دکھا جو ہر اس درخت کے پھل سے احتراز کرتے ہیں جس کا کھانا تو نے منع فرما دیا ہے اور اس پھل کی طرف ہاتھ نہیں بڑھاتے جسے تو نے ممنوع قرار دیا۔اے خدا! ہمیں ان لوگوں کا رستہ دکھا جو ہمیشہ تیری نعمتوں کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور جو عہد تجھ سے باندھا ہے اس پر پختگی سے قائم رہتے ہیں۔ہمیں ان لوگوں کی راہ پر چلا جو ہر اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو اس تعلیم کی تصدیق کرتی ہے جو قرآن میں اتاری گئی اور تیری آیات کو ادنی اغراض کی خاطر بیچ نہیں ڈالتے اور صرف تیرا ہی تقویٰ اختیار کرتے ہیں اور وہ جھوٹ کی ملونی سے پاک اور خالص دل رکھتے ہیں جو نماز کو قائم کرتے ہیں اور زکوۃ کو ادا کرتے ہیں اور تیرے حضور جھکنے والوں کے ساتھ ہر مقام اطاعت پر جھک جاتے ہیں۔ان لوگوں کا رستہ دکھا جو صبر اور دعاؤں کے ذریعہ سے تجھ سے مدد مانگتے ہیں اور تیرے حضور