خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 287
خطبات طاہر جلد ۱۰ 287 خطبه جمعه ۵ / اپریل ۱۹۹۱ء وہ مشرق کی قوم ہو یا مغرب کی قوم ہو۔خواہ وہ اسلام سے باہر ہو یا مسلمانوں کے اندر ہو، ہرایسی قوم سے بچنے کی دعا سکھائی گئی ہے۔پس مسلمانوں میں بھی اگر کچھ ایسے لوگ ہوں جو وہ عمل کریں جو الْمَغْضُوبِ بنانے والے ہوں تو غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی دعا ان پر بھی صادق آتی ہے اور ان کو بھی اپنے دائرے میں لیتی ہے اور ان سے بچنے کے لئے بھی ہمیں متوجہ کرتی ہے۔اسی طرحہ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا دائرہ بھی بہت ہی وسیع ہے۔پس جیسا کہ میں نے جماعت کو نصیحت کی تھی کہ قرآن کریم کے مطالعہ سے انعمت کی تعریف معلوم کریں کہ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ والے لوگ ہیں کیا؟ اور ان کا مزید مطالعہ کریں۔پھر جب آپ دعا مانگیں گے تو پتا ہوگا کہ کیا مانگ رہے ہیں آنکھیں بند کر کے نہیں مانگیں گے بلکہ ہوش سے مانگیں گے اور اس کی ذمہ داریوں کو سمجھ کر دعا مانگیں گے اور پھر ان کا دل ان کو بتائے گا کہ وہ اپنی دعا میں سچے ہیں یا جھوٹے ہیں واقعی صمیم قلب سے دل کی گہرائیوں سے دعا کر رہے ہیں یا پو پلے منہ کی باتیں ہیں۔اس سے زیادہ ان کی کوئی حقیقت نہیں۔اب بتائیے کہ یہ دعا کوئی آسان دعا ہے کہ اے خدا! ہمیں ان راستوں پر چلا جہاں گندی گالیاں دی جاتی ہیں اے خدا!! ہمیں ان رستوں پر چلا جہاں بغیر قصور کے لوگ گھروں سے نکالے جاتے ہوں اور قتل کئے جاتے ہوں ،ایسے رستوں پر چلا جن رستوں پر پتھر پڑے ہوں اے خدا! ہمیں ان رستوں پر چلا جہاں چلنے والوں کی آنکھوں کے سامنے ان کے بچے ذبح کئے جاتے ہوں، ان کی مائیں ذبح کی جاتی ہوں، ان کی عزتیں لوٹی جاتی ہوں ان کو ہر قسم کے الزام کا نشانہ اور طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہو۔جہاں زندگی عذاب بنادی جاتی ہواب بھلا یہ دعا کوئی ہوش مند آنکھیں کھول کر کر سکتا ہے مگر جب أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ کی تاریخ پر غور کرتے ہیں تو اس راہ سے گزرنے والوں کی جو راہ ہم مانگ رہے ہیں اسی قسم کی مصیبتوں میں مبتلا کئے گئے۔اپنے گھروں سے نکالے گئے بغیر کسی قصور کے ان کو قتل کیا گیا، ان کو گھروں سے نکالا گیا، ان کے اموال لوٹے گئے، انہیں طرح طرح کے سب وشتم کا نشانہ بنایا گیا۔ساری زندگی ان سے نفرتیں کی گئیں، ان کو حقیر قرار دیا گیا ، ان کو گمراہ قرار دیا گیا ، ذلیل ادنی ادنیٰ لوگ جب ان راہوں سے گزرتے تھے جہاں سے خدا کے یہ نیک انعام پانے والے بندے گزر رہے ہوتے تھے تو بڑی بڑی