خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 279
خطبات طاہر جلد ۱۰ 279 خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۹۱ء ایسے بد بخت کی راہ اختیار کر لیتے جس نے ہمیں ذکر سے یعنی قرآن کریم سے پرے ہٹا دیا پس ہر ایسا دوست جو خدا تعالیٰ کی راہ میں قدم بڑھانے سے مانع ہو۔ہر ایسا تعلق جس کے نتیجے میں انسان رفتہ رفتہ نیکیوں سے محروم ہوتا چلا جائے اور پیچھے ہٹتا چلا جائے اور بدیوں کی طرف بڑھنا شروع کر دے تو وہی خلیل ہے، وہی الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی راہ دکھانے والا ہے ، وہی مالین کی راہ دکھانے والا ہے۔پس ایسے تعلقات سے پر ہیز کریں اور صحبت صالحین اختیار کریں یعنی ایسے لوگوں سے تعلق بڑھائیں جن کے نتیجے میں آپ کو قرآن کے ساتھ محبت بڑھتی ہو اور رسول کے ساتھ محبت بڑھتی ہو۔اس ذکر کو اپنے گھروں میں عام کریں۔آج کل بہت ہی اچھا موقعہ ہے۔نمازوں کی طرف توجہ ہے۔بچے بھی اٹھتے ہیں۔اگر وہ روزے نہیں رکھ سکتے تو سحری کھانے کے لئے اٹھ جاتے ہیں اگر ایک روزہ نہیں رکھ سکتے تو بعض بچے ایک دن میں دو دو تین تین روزے رکھتے ہیں۔ایک بچے سے میں نے ایک دفعہ پوچھا تھا کہ کتنے روزے رکھے تو اس نے کہا: آج میں نے پانچ روزے رکھے تو بڑوں سے بھی آگے بڑھ جاتے ہیں لیکن روزے کا احترام ہے۔مجھے یہ جواب سن کر بڑی خوشی ہوئی اس کے دل میں روزے کا پیار ہے۔وہ اسے قابل فخر سمجھتا ہے اس لئے اس نے دن میں پانچ دفعہ کھانا کھایا تو اس نے کہا میں نے پانچ روزے رکھے ہیں۔ان پانچ روزے رکھنے والوں کو پانچ نمازوں کی بھی عادت ڈالیں۔ان کو بتائیں کہ یہ نمازیں تو تم پڑھ سکتے ہو اور نماز کے طریق سمجھائیں حمد کی جو باتیں آپ سنتے ہیں وہ آگے ان کو ذہن نشین کروائیں اور گھر میں پیار کی مجلسیں لگا ئیں عورتوں بچوں کی مجالس اور ان کو سمجھائیں کہ اس طرح عبادت کی جاتی ہے۔یہ یہ مقاصد ہیں۔پھر جن کو یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ روزہ رکھ سکیں ان کو ساتھ ساتھ یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ روزہ محض صبح کچھ کھانے سے نہیں رکھا جاتا کیونکہ محض کھانے سے تو جسم کو غذاملتی ہے اور یہ مہینہ روح کی غذا کا ہے۔اس لئے تم صبح نفلی عبادت بھی کیا کرو پس یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ جسم کی غذا کو خدا نے کم کیا ہے اور روح کی غذا کا ایک تعلق روح سے ہے جس میں اس کی غذا کو بڑھایا گیا ہے۔پس اگر تم روح کی غذا بڑھاؤ گے نہیں اور محض جسم کی غذا گھٹاتے چلے جاؤ گے تو یہ فاقہ کشی ہے، روزہ نہیں۔اس مضمون کو آرام سے نرم لفظوں میں بچوں کی زبان میں ان کو سمجھائیں اور ان کو نوافل پڑھوانا شروع کریں۔اس چھوٹی عمر میں اگر نفلوں کی عادت پڑ جائے اور احساس ہو کہ میں نے وقت