خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 278 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 278

خطبات طاہر جلد ۱۰ 278 خطبه جمعه ۲۹ / مارچ ۱۹۹۱ء کاش مجھے رسول کی معیت نصیب ہوتی اور میں اس راہ پر چلتا جس راہ پر رسول نے مجھے ڈال دیا تھا۔پھر فرمایا وہ کہے گا يُوَيْلَتى لَيْتَنِيْ لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانَّا خَلِيْلًا - صرف أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کا مضمون نہیں ہے بلکہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کا مضمون بھی بیان ہوا ہے وہ کہے گا وائے حسرت اے کاش ! میں فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بناتا اور اس کے طریق اختیار نہ کرتا۔لَقَدْ ضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَ تي اس نے مجھے ذکر ملنے کے بعد پھر اس ذکر سے گمراہ کر دیا وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِلْإِنْسَانِ خَذُولا اور شیطان کی تو یہ فطرت ہے کہ وہ موقعہ پر ساتھ چھوڑ دیتا ہے اور گمراہ کرنے کے بعد پھر آپ غائب ہو جاتا ہے اور انسان کومصیبتوں میں مبتلا چھوڑ کر اس سے دغا بازی کر جاتا ہے۔وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ اِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا اور رسول خدا کے حضور یہ شکایت عرض کرے گا کہ اے میرے رب میری قوم نے اس قرآن کو مَهْجُورًا کی طرح چھوڑ دیا۔پس ذکر سے مراد قرآن کریم ہے گویا یہ مضمون ہمیں صرف ماضی میں نہیں بلکہ حال کی دنیا اور ہمیشہ مستقبل کی دنیا میں لے جاتا ہے۔آنے والی نسلوں کو مستقبل کی دنیا میں لے جاتا ہے اور موجودہ نسلوں کو حال کی دنیا میں اور یہ بتاتا ہے کہ وہ راہیں ماضی سے تعلق نہیں رکھتیں جن کو تم اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ کہتے ہو اور وہ راہیں بھی صرف ماضی سے تعلق نہیں رکھتیں جن کو تم مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی راہیں کہتے ہو بلکہ قرآن کریم اور سنت محمد مصطفی حملے کی شکل میں آج تمہارے سامنے پڑی ہیں پس تم کیسی دعائیں مانگتے ہو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ اے خدا! ہمیں صِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دکھا اور ان راہوں پر چلا جو ان لوگوں کی راہیں تھیں جن پر تو نے انعام فرمایا اور وہ را ہیں تمہارے سامنے کشادہ اور کھلی پڑی ہیں اور تم ایک قدم آگے نہیں بڑھاتے اور پھر یہ دعا مانگتے ہو کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ جو لوگ ہیں ان کی اور ضالین کے گروہ کی راہوں سے ہمیں بچا۔ان راہوں پر ہم قدم نہ ماریں جن پر مغضوب چلتے رہے اور جن پر گمراہ لوگ چلتے رہے اور جب ان دورا ہوں میں سے ایک اختیار کرنے کا وقت آتا ہے تو روز مرہ کی زندگی میں تم الْمَغْضُوبِ اور الضَّالِّينَ کی راہ میں چل پڑتے ہو لیکن قیامت کے دن تم حسرت سے یاد کرو گے اور کہو گے ،اے کاش ! ایسا نہ ہوتا۔کاش! ہم اس سے پہلے مر چکے ہوتے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی راہ کو چھوڑ کر ایک