خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 277
خطبات طاہر جلد ۱۰ 277 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۹۱ء ان پر سلام بھیجے گئے لیکن یہ جو پہلی قو میں تھیں جن کی بڑائی اور عظمت وقتی طور پر تھی اور خدا سے تعلق کے نتیجے میں نہیں بلکہ دنیا سے محبت کے نتیجے میں تھی ان کے مٹنے کے ساتھ ان کی حمد بھی مٹ گئی اور ان کی برائیاں باقی رہ گئیں اور مورخین نے پھر ان پر لعنتیں ڈالنی شروع کیں کہ وہ ایسے ظالم ، ایسے سفاک تھے۔ ان کی عظمتوں میں ہمیشہ کوئی بدی دکھائی دے گی۔ پس خدا تعالیٰ نے اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کی راہ بھی خوب کھول دی ہے اور الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی راہ بھی خوب کھول دی ہے قرآن کریم میں اس کی وضاحت سے ذکر موجود ہے۔ پس آج کل رمضان میں خصوصیت کے ساتھ اپنے گھروں میں اس مضمون کو جاری کرنا چاہئے اور اس دلچسپ مضمون کے ذریعے اپنے بچوں کی علمی اور اخلاقی اور عملی تربیت کرنی چاہئے ۔ قرآن کریم ایک موقعہ پر فرماتا ہے۔ وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ يَقُولُ يُلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِيلًا يُوَيْلَتَى لَيْتَنِي لَمْ اتَّخِذُ فُلَانَا خَلِيْلًا لَقَدْ أَضَلَّنِي عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِي وَكَانَ الشَّيْطَنُ لِلْإِنْسَانِ خَذُوْلًا وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان : ۲۸ تا ۳۱ ) صلى الله اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک ایسا دن آئے گا جب ظالم اپنے انگلیوں کے پورے تکلیف اور بے چین اور بے قراری اور حسرت کے ساتھ چبائے گا ۔ یقول يُلَيْتَنِي اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سبیلا کہ اے کاش میں اپنے رسول کے ساتھ راہ اختیار کرتا۔ اس راہ پر پڑتا جس راہ پر رسول چلا تھا اس لئے یہ جو ذکر میں کہ میں کر رہا ہوں یہ صرف تاریخی ذکر نہیں ہے بلکہ آنحضرت کہ جس راہ پر چلے ہیں وہ راہ آج ہمارے لئے محفوظ کر دی گئی ہے اور اسی کو ہم صرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کہتے ہیں۔ پس صرف دعاؤں کی حد تک نہیں بلکہ روزمرہ کی عملی زندگی میں آج بھی ہمیں اس رسول کے ساتھ سفر اختیار کرنے کی شدید ضرورت ہے ۔ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو قرآن کریم فرماتا ہے وَيَوْمَ يَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں کاٹے گا اور کہے گا