خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 276
خطبات طاہر جلد ۱۰ 276 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۹۱ء اگر آپ اس دل سے پیچھے چلے جائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی آنکھ سے اس نور کا لطف اٹھا رہے ہوں تو بے اختیار دل سے یہی کلام جاری ہوگا۔ کس قدر ظاہر ہے نور اس مبدء الانوار کا تمام نوروں کا جو سر چشمہ ہے اس کے نور کا ایک معمولی حصہ اس خوبصورت دن یا اس حسین رات کی شکل میں ظاہر ہوا ہے: بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا تمام جہان ،ساری کا ئنات یوں لگتا ہے ایک شیشہ بن گئی ہے جس میں ہمیں خدا کا حسن دکھائی دینے لگا ہے پس حمد کی نفی اور حمد کا اثبات یہ دونوں چیزیں بیک وقت موجود رہتی ہیں ۔ غیر اللہ میں حمد ہوتی ہے کیونکہ اس نے پیدا کی ہے لیکن اگر اس کی پیدا کردہ چیزوں تک حد ٹھہر جائے تو وہ غفلت کی زندگی ہے جو بعض دفعہ شرک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ ایسی غفلت کی زندگی ہے جو بعض دفعہ نہیں بسا اوقات شرک میں تبدیل ہو جاتی ہے اور اگر خالق کے حسن کی طرف نگاہ آگے چل پڑے اور انسانی محبتوں کا جلوس آگے قدم بڑھائے اور خدا کی طرف حرکت کرنے لگے تو پھر یہ ایک عارفانہ زندگی ہے۔ پس سورہ فاتحہ پڑھتے وقت جب آپ ان راہوں میں چلیں تو میں جیسا کہ بیان کر چکا ہوں انبیاء کی راہوں کی تلاش کریں اور انبیاء کی دعا ئیں خود بھی سیکھیں اور ان پر غور کریں اور اپنے بچوں کو بھی سکھائیں ۔ پھر اسی طرح غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ کی آیت ہے ۔ جن لوگوں کی راہ آپ نہیں دیکھنا چاہتے ان کی تاریخ قرآن کریم میں لکھی ہوئی ہے۔ کن کن راہوں سے وہ گزرتے تھے۔ بظاہر کتنے عظیم الشان فتح یاب دکھائی دیتے تھے۔ جن کے بڑے بڑے قلعے تھے اور بڑی بڑی حکومتیں اور ان کے بڑے بڑے دبدبے تھے جن سے انسان دور دور تک لرزے کھاتا تھا اور انہوں نے بڑی جنتیں بنا رکھی تھیں لیکن وہ ساری رفتہ رفتہ مٹ گئیں۔ تہہ خاک ہو گئیں اور سوائے تاریخ کے ان کا کہیں کوئی ذکر نہیں ملتا۔ ان کی قبروں سے پھر کچھ اور ناداں تو میں اسی طرح اٹھیں اور پھر انہوں نے دنیا کی بڑی بڑی عظمتیں حاصل کیں مگر خدا سے تعلق نہیں جوڑا پھر وہ بھی صفحہ ہستی سے غائب ہوئے لیکن تاریخ میں نیکیوں کا ذکر پیار اور محبت اور دعاؤں کے ساتھ جاری رہا اور آخر تک