خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 24
خطبات طاہر جلد ۱۰ 24 خطبه جمعه ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء عراق کے متعلق یہ دونوں باتیں بڑی شدت کے ساتھ اٹھتی رہیں۔ ایک تو یہ کہ Sanctions یعنی اقتصادی بائیکاٹ اتنا مکمل ہو کہ کچھ بھی وہاں نہ جاسکے، خوراک نہ جاسکے، ادویہ نہ جاسکیں ، کوئی چیز کسی قسم کی وہاں داخل نہ ہو نہ وہاں سے باہر نکل سکے اور ساتھ ہی اس سختی کے ساتھ اس کو نافذ کیا گیا کہ چاروں طرف سے عراق کی ناکہ بندی کر دی گئی بلکہ اردن کی بھی ناکہ بندی کر دی گئی۔ جس کے رستے سے یہ امکان تھا کہ یہ Sanctions تو San توڑ دی جا جائیں گی یا ان کے کسی حصے میں اس کی خلاف ورزی کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ساتھ ہی اسرائیل کا اردن کے دریا کے مغربی کنارے پر قبضہ موجود ہے اس پر کوئی Sanctions نہیں لگائی گئیں اور جس قسم کے مظالم اسرائیل نے فلسطینیوں پر توڑے ہیں۔ ان کے ذکر میں کوئی آواز اس کے خلاف بلند نہیں کی گئی ۔ اگر وہی دلیل جو آج عراق کے خلاف دی جارہی ہے وہاں بھی چسپاں کی جاتی تو آج سے بہت پہلے یہ مسئلہ حل ہو چکا ہوتا ۔ پھر جب آپ امریکہ کی تازہ تاریخ پر غور کرتے ہیں تو خود امریکن مصنفین کی لکھی ہوئی تاریخوں سے اور بعض اعداد و شمار پر مشتمل کتب سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے C۔I۔A کے ذریعے آج کے زمانے میں تمام دنیا کے مختلف ممالک میں حسب ضرورت دخل دیا ہے اور Terrorism سے باز نہیں رہے۔ کسی قسم کی ظالمانہ کارروائیوں سے باز نہیں رہے اور وہاں اپنا حق سمجھا ہے کہ ہم جو چاہیں وہ کریں ۔ ابھی حال ہی میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے President Secret Wars Covert "Secret Wars of President Operation“ یعنی امریکہ کے پریذیڈنٹ کی خفیہ جنگیں اور اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ Covert Operation یعنی مخفی کارروائیوں کی اصطلاح کے نیچے ہر قسم کے ظلم وستم کی اجازت تھی ۔ جو چاہو کرو جس کو چاہو قتل کراؤ جہاں چاہو پانیوں میں زہر ملا دو، خوراک کو گندا کر دو، عام بنی نوع انسانی کے قتل عام سے بھی پرہیز نہ کرو۔ جو چاہو کرو مگر مخفی طریق پر ہو اور Deniability کی طاقت موجود رہے یعنی یہ بھی ایک نئی اصطلاح ہے ، بڑی دلچسپ Deniability کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے پریذیڈنٹ صاحب باوجود اس کے کہ عملاً ہر چیز کی اجازت دے رہے ہوں لیکن ان کے لئے یہ گنجائش باقی رکھی جائے کہ جب بعض باتوں کا علم ہوا اور ان سے سوال کیا جائے کہ بتائیے کیا آپ کے حکم پر ایسا ہواتھا تو وہ کہیں بالکل نہیں۔ میرے حکم پر ایسا نہیں ہوا اور میں تحقیق کراؤں گا۔ اس ا