خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 23

خطبات طاہر جلد ۱۰ 23 23 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۹۱ء لڑ کر اپنے اپنے علاقوں کا دفاع کرنا جانتی تھیں اور بڑی عظیم الشان قربانیاں اس راہ میں دیتی تھیں لیکن آسٹریلیا کے Aboriginies بالکل امن پسند لوگ تھے اور ان بے چاروں کو لڑنا آتا ہی نہیں تھا۔ان کو انہوں نے جنگلوں میں اس طرح شکار کیا ہے جس طرح ہرن کا شکار کیا جاتا ہے اور شکار کرنے کے بعد جو بچ جاتے تھے ان کو پکڑ کر باقاعدہ آپریشنز کے ذریعے اس حال تک پہنچا دیتے تھے کہ آئندہ ان سے نسل پیدا ہی نہ ہو سکتی ہو اور بہت ہی وسیع پیمانے پر اور بڑے بھیا نک طریق پر نسل کشی کی گئی ہے یہاں تک کہ ان قوموں میں سے جن میں ایک وقت میں 1600 الگ الگ زبانیں بولی جاتی تھیں ، اب صرف چند زبانیں ہیں جن کا ریکارڈ رہ گیا ہے اور ان قبائل کے بچے کھچے حصوں کے چند ایسے علاقے رہ گئے ہیں جہاں جس طرح چڑیا گھر میں جانور رکھے جاتے ہیں اس طرح ان کی حفاظت کی جارہی ہے اور لوگوں کو دکھانے کے لئے کہ یہ وہ لوگ تھے جن سے ہم نے یہ ملک لیا ہے۔ان کا انتظام کیا جارہا ہے کہ کم سے کم ان کی نسلیں باقی رہ جائیں۔اب یہ برطانیہ کی تاریخ ہے۔اس کے علاوہ ہندوستان میں جو کچھ کیا گیا جو افریقہ میں کیا گیا، ان سب باتوں کے ذکر کا وقت نہیں ہے مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اصول اور اخلاق کی جب بات کی جائے تو اصول اور اخلاق زمانے سے بالا ہوا کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ بدل نہیں جایا کرتے۔اب Sanctions کی باتیں کرتے ہیں تو حال ہی کی بات ہے کہ ابھی جنوبی افریقہ کے خلاف Sanctions کی گئیں اور ان Sanctions میں سالہا سال لگ گئے اور انہوں نے کوئی اثر نہ دکھایا یعنی نمایاں اثر نہ دکھایا۔اس کے نتیجے میں یہ آواز بلند نہیں ہوئی کہ Sanctions میں اتنی دیر ہوگئی ہے وہ کام نہیں کر رہیں۔اب ضرورت ہے کہ ساری دنیامل کر جنوبی افریقہ پر حملہ کر دے اور خود مغربی ممالک نے خود انگلستان نے ان Sanctions کا بہت سے مواقع پر ساتھ نہیں دیا اور انگلستان کی رائے عامہ نے بھی اپنی حکومت کے خلاف آواز بلند کی مگر پرواہ نہیں کی گئی اور ان کے خلاف بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا۔یہ کسی پرانی تاریخ کا حصہ نہیں یہ آج کی تاریخ کی باتیں ہیں اور نہ یہ کسی نے آواز بلند کی کہ جو قو میں Sanctions کے ساتھ تعاون نہیں کر ر ہیں ان کو زبردستی فوجی طاقت کے ساتھ Sanctions کے مطابق کارروائی پر مجبور کر دیا جائے اور نہ یہ آواز بلند کی گئی کہ اتنی دیر ہوگئی ہے Sanctions کام نہیں کر رہیں اب اس کے متعلق کچھ اور کرنا چاہئے لیکن