خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 271
خطبات طاہر جلد ۱۰ 271 خطبه جمعه ۲۹ مارچ ۱۹۹۱ء صورت میں دل میں پیوست ہو اور پھر آسمان تک اس کی شاخیں بلند ہوں تو اسے کسی بہار کی انتظار نہیں ہوتی وہ خود اپنی ذات میں بہار کا منظر پیش کرنے والا ایک دائم ایک سدا بہار ایسا درخت بن جاتا ہے جسے پھل لگتے ہی رہتے ہیں ۔ پس قرآن کریم نے ایسے درخت کا نقشہ کھینچتے ہوئے یہی فرمایا کہ كل حين ہر حالت، ہر موقعہ پر، ہر کیفیت میں اس کو خدا تعالیٰ کے فضل سے پھل عطا ہوتے رہتے ہیں اور وہ کبھی بھی پھلوں سے محروم نہیں رہتا۔ پس یہ انبیاء کی وہ دعائیں ہیں جو ایسے دلوں سے نکلی تھیں جو دل دعاؤں کو قبول کرنے کے لئے انتہائی درجے پر تیار ہو چکے تھے اور جس کیفیت میں دعائیں دل سے اٹھی تھیں ان کیفیتوں کا ایک اثر پیچھے چھوڑ گئی ہیں اور وہ الفاظ ایسے ہیں جو زمانے کے ساتھ کبھی مر نہیں سکتے ۔ وہ کیفیتیں ایسی ہیں جو ان الفاظ کے ساتھ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو چکی ہیں۔ پس اگر آپ غور کر کے انبیاء کے الفاظ میں دعائیں کریں تو آپ کی دعاؤں کو بہت بڑی عظمت ملے گی اور پھر آپ کو پتا چلے گا کہ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ کون لوگ ہیں؟ کیوں ان لوگوں پر انعام کیا گیا؟ اور یہ تعریف کا کلمہ ہے ان کے حق میں خدا نے کیوں فرمایا ؟ کیسے کیسے یہ لوگ تھے ؟ تو اگرچہ آپ خدا کے حضور اپنے وجود کو کلیہ خالی کر چکے ہوں گے لیکن ایک اور حمد آپ کو عطا ہو گی جو آسمان سے عطا ہو گی اور ان آسمانی وجودوں کی معرفت آپ کو عطا ہوگی ۔ اس ضمن میں ایک اور غلط نہمی بھی دور ہونی چاہئے ۔ میں نے گزشتہ خطبے میں یہ کہا تھا کہ دعا کرتے وقت اپنی کسی تعریف کے حوالے سے دعا نہیں کرنی چاہئے بلکہ اپنے آپ کو خالی کر کے ایسے فقیر بنا کے جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو، جس کو دیکھ کر سخت دل کو بھی رحم آجائے ایسی کیفیت کے ساتھ دعا کرنی چاہئے ۔ بعد میں مجھے خیال آیا کہ بعض لوگوں کو ایک حدیث کے نتیجے میں غلط فہمی نہ پیدا ہو کہ گویا یہ مضمون آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے نعوذ باللہ من ذالك مخالف ہے۔ وہ حدیث ہمیں تین ایسے آدمیوں کا پتا بتاتی ہے جو ایک غار میں کسی کام کی غرض سے گئے ۔ پیچھے زلزلے کے نتیجے میں ایک بہت بھاری چٹان لڑھک کر اس غار کے منہ پر آپڑی اور غار کا منہ بند ہو گیا اور ان کے لئے اس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں تھی اور بالکل بے طاقت تھے کہ وہ اس پتھر کو سر کا سکیں ۔ تب ان میں سے ایک نے یہ سوچا کہ میں نے اپنی زندگی میں نیکی کا وہ کونسا ایسا کام کیا ہے کہ جس کے حوالے سے میں دعا