خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 266
خطبات طاہر جلد ۱۰ 266 خطبہ جمعہ ۲۹ / مارچ ۱۹۹۱ء اپنے اس مضمون کی طرف واپس لوٹتا ہوں جو کچھ عرصے سے عبادات کے سلسلے میں شروع کر رکھا ہے۔گزشتہ خطبے میں میں نے یہ متوجہ کیا تھا کہ خدا تعالیٰ کی حمد کے وقت اپنی ذات سے حمد کی نفی ضروری ہے ورنہ حقیقت میں خدا کی حمد کا اثبات نہیں ہو سکتا۔اس مضمون کا تعلق دراصل لا اله الا اللہ سے ہے اللہ میں جس اللہ کی نفی ہے اور الا اللہ میں جس وجود کا بطور معبود اثبات ہے اس کے دونوں تقاضے ہیں کہ پہلے غیر اللہ سے ہر قسم کی تعریف اور ذاتی تعلق کی نفی ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ کا وجود ابھرتا ہے اور اگر کسی کپڑے پر ذاتی محبتوں کے رنگ بھی چڑھے ہوں اور خدا کے مقابل پر وہ رنگ قائم رہیں تو پھر خدا کا رنگ اس کپڑے پر نہیں چڑھتا لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ انسان اپنی تعریف سے بالکل مستغنی ہو جائے کیونکہ اپنی تعریف چاہنا انسانی فطرت کا حصہ ہے بلکہ اسے شعلہ حیات کہنا چاہئے کیونکہ دنیا میں انسان جو بھی کام کرتا ہے اس میں بڑے محرکوں میں سے ایک اپنی تعریف چاہنا اور ایک اپنے متعلق بدگوئی سے بچنا ہیں اور یہ زندگی کے بہت ہی بڑے محرکات ہیں جیسے موٹروں میں پڑول چلتا ہے اسی طرح یہ دو طاقتیں ہیں جو انسانی زندگی کے عمل کو آگے بڑھاتی ہیں اس لئے یہ خیال نہ کیا جائے کہ اپنی تعریف چاہنا یا کسی دوسرے دوست کی تعریف کرنا جو اپنے محدود دائرے میں تعریف کا مستحق ہو، یہ شرک ہے۔یہ ہر گز شرک نہیں لیکن شرک وہ بات ہے کہ انسان اپنی یا اپنے دوستوں یا عزیزوں کی تعریف پر جا کر ٹھہر جائے اور پردے پر راضی ہو جائے ، نقاب پر راضی ہو جائے اور اس کی نگاہیں نقاب سے پار سرایت کر کے پیچھے اصل حسن کی تلاش نہ کریں۔اگر یہ کیفیت ہو تو یہ بھی ابھی شرک نہیں بنے گی لیکن غفلت ہوگی اور دنیا میں اکثر لوگ غفلت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنے عظیم علم کلام میں ایسے دنیا داروں کو غافل کے طور پر بیان فرمایا ہے اور بڑی باریکی سے ان کی غفلتوں کا تجزیہ فرمایا ہے۔پس غفلت یہ ہے کہ انسان اپنی تعریف کو اپنا کر اس پر اس طرح راضی ہو جائے گویا واقعی وہ اس کا مستحق تھا اور اس سے پرے کوئی اور قابل تعریف ذات نہیں رہی اور وہیں تعریف کا گویا رستہ بند کر کے اسے اپنے برتن میں ہی سمٹنے لگ جائے۔یہ چیز غفلت کی کیفیت ہے جو بالآخر شرک پر منتج ہو جاتی ہے اور کئی قسم کی اور بھی برائیاں پیدا کرتی ہے۔پس جب خدا کی ذات کے تعلق میں اپنی ذات کا سوچا جائے اور اپنی تعریف ہوتے دیکھ کر خدا کی طرف دھیان نہ جائے تو یہ خطرناک بات ہے جس