خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 262
خطبات طاہر جلد ۱۰ 262 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء خیال غلط ہے کہ صرف امیر اور طاقت ور ظالم ہوا کرتا ہے یہ راز سمجھنے والا راز ہے اور اس کو خوب اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ غریب اور کمزور بھی ظالم ہو جایا کرتا ہے۔صرف فرق یہ ہے کہ اسے اپنے ظلم کی توفیق نہیں ملتی یا کم ملتی ہے۔پس ظالم ہونا یا نہ ظالم ہونا انسان کے اندرونی رحجانات سے تعلق رکھنے والی باتیں ہیں۔میں نے تو جہاں تک نظر ڈالی ہے تیسری دنیا میں بھی اکثر ممالک ایسے ہیں جب بھی انہیں توفیق ملی ہے انہوں نے ظلم سے کام لیا ہے۔وہی صدام حسین جن کے عراق پر یکطرفہ ظالمانہ بمباری کے نتیجے میں تمام مسلمانوں کے دل خون ہو رہے تھے اور سخت اذیت میں مبتلا تھے۔اب اندرونی طور پر ان کو چھٹی ملی ہے کہ جبر کے ساتھ بغاوتوں کو نا کام کر دیں اور ملیا میٹ کر دیں تو اس جبر سے آگے بڑھ رہے ہیں جس جبر کی انسان کو خدا تعالیٰ کا خوف اجازت دیتا ہے ایک جبر کے مقابل پر جبر ہے جس کی قرآن کریم نے اجازت دی ہے اور خدا کے خوف کی راہ میں یہ بات مانع نہیں ہے لیکن وَلَا تَعْتَدُوا کی شرط کے ساتھ کہ ہر گز تم نے مقابل پر زیادتی نہیں کرنی انتقام اس رنگ میں نہیں لینا کہ جتناتم پر ظلم ہو رہا ہے اس سے زیادہ ظلم کر دیا انسانی قدروں کو پامال کرتے ہوئے ظلم شروع کرد و پس کردوں کے مقابل پر یہ ظلم ہورہا ہو یا شیعوں کے مقابل پر ظلم ہورہا ہو۔جو بھی شکل ہے ہر قوم کا یہ بنیادی حق ہے کہ وہ باغیوں کا سر کچلے لیکن یہ حق نہیں کہ ان کو آگ کا عذاب دے کر مارے جیسا کہ امریکہ نے نیپام بم کے ذریعے عراقی فوجیوں پر ظلم کئے تھے یا گیس سے مارے یا تیزاب برسا کے مارے۔اگر یہ باتیں جو بیان کی جارہی ہیں بچی ہیں تو پتہ یہ لگا کہ ادھر بھی ظلم تھا اور ادھر بھی ظلم ہے پھر ہماری یہ دعا جس کی میں نے تلقین کی تھی کہ اے اللہ ! حق کو فتح دے یہ کس کھاتے میں جائے گی حق تو پھر صرف اتنا سا باقی رہ گیا تھا کہ کویت پر ان کا حملہ نا جائز تھا۔اور ان کو کویت خالی کر دینا چاہئے تو کو یت سے انخلاء کی حد تک تو ہماری حق والی دعا قبول ہوگئی۔اس کے بعد اگر حق ایک طرف ہو ہی نہ اور دونوں طرف ظلم شامل ہو جائے تو یہ دعا کسی کے بھی حق میں مقبول نہیں ہوسکتی۔پس یہ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کو حق نصیب کرے۔اس وقت تو یہ زمانہ آ گیا ہے کہ انسان کنگال ہوا بیٹھا ہے۔اخلاق سے عاری ہو گیا ہے۔حق سے عاری ہو گیا ہے غریب تو میں اگر دوسری ہمسایہ قوموں پر ظلم نہیں کرتیں تو اپنے ملک کے غریب باشندوں پر ظلم کرتی ہیں ہر طاقتور کمزور پر ظلم کر رہا ہے۔ایسی افراتفری کے زمانے میں جبکہ طاقت کو گویا یہ اختیار ہے کہ ہر قسم کے ظلم وستم بجالائے اور کوئی