خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 263
خطبات طاہر جلد ۱۰ 263 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء اس کو روکنے والا نہ ہو۔ایسے دور میں قوموں کے تعلقات اسی ظلم کے رشتے پر ہی قائم ہوتے ہیں۔آج امریکہ کو خدا نے جہاں یہ توفیق بخشی ہے کہ اب اس کے مقابل پر اس کا کوئی رقیب نہیں رہا۔پہلے اگر مجبوریاں بھی تھیں تو اب مجبوریاں نہیں رہیں۔اس وجہ سے خدا نے اسے توفیق بخشی ہے کہ وہ بے دھڑک ہو کر دنیا میں انصاف قائم کرنے کی کوشش کرے تو یہ موقعہ پھر شاید کبھی ہاتھ نہ آئے۔آج اگر پہلے قدم غلط اٹھ گئے تو پھر دوبارہ ان غلط فیصلوں کی درستی ممکن نہیں رہے گی اس لئے میں جماعت کو خصوصیت کے ساتھ اس دعا کی طرف متوجہ کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو امریکہ کی قوم کو اس عظیم تاریخی سعادت حاصل کرنے کے بعد کہ وہ دنیا کی سب سے بڑی طاقتور قوم بن کے ابھری ہے ، یہ سعادت عطا کرے کہ اس طاقت کو بنی نوع انسان اور خود اپنی عاقبت کے خلاف استعمال نہ کرے بلکہ انصاف قائم کرنے کی کوشش کرے اللہ تعالیٰ اس کے نتیجے میں اس طاقت (کے زمانے) کولمبا کر دے گا اور سینکڑوں سال تک دنیا کو امن نصیب رہے گا لیکن آثار ایسے ظاہر ہور ہے ہیں جن سے مجھے خطرہ ہے کہ شاید یہ نہ ہو سکے تو دوسری صورت میں تیسری دنیا کے لئے دعا کریں۔کمزور ملکوں کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل میں انصاف پیدا کرے ان کے دل میں رحم پیدا کرے۔ان کو اپنی اخلاقی تعمیر نو کی توفیق بخشے کیونکہ طاقت ور قوم کا طاقت سے مقابلہ نہیں ہوسکتا لیکن طاقتور قوموں کا اعلیٰ اخلاق کے ساتھ ضرور مقابلہ ہو سکتا ہے۔یہ راز ہے جو قرآن کریم نے ہمیں سمجھایا ہے پس اگر کوئی قوم اخلاقی لحاظ سے مضبوط ہو جائے اور اپنے نوک پلک درست کر لے اور اپنے اندر توازن پیدا کرلے اور حرص و ہوا سے باز آجائے اور قناعت کی زندگی بسر کرنا سیکھ جائے اور غربت میں ہی اپنی غریبانہ جنت بنانے کی اہلیت پیدا کر لے تو ایسی قوم پر دنیا کی کوئی طاقت حکومت نہیں کر سکتی۔اعلیٰ اخلاق سے بڑھ کر انسان کا کوئی دفاع نہیں ہے۔پس تیسری دنیا کے ملکوں کو میں بار بار یہ نصیحت کرتا ہوں کہ اپنی اندرونی اصلاح کریں۔اپنے اخلاق درست کریں۔اپنے اندرونی تعلقات کو درست کریں۔انکسار پیدا کریں اور فی الحال غیر قوموں پر انحصار کو اگر فوری طور پر ترک نہیں کر سکتے تو کم سے کم یہ منصوبہ بنا ئیں کہ جتنی جلد ہو سکے گا آپ غیر قوموں پر انحصار سے تو بہ کریں گے اور خود داری کی زندگی بسر کریں گے خواہ غریبانہ ہو۔اگر یہ نصیحت تیسری دنیا نے مان لی اور جماعت نے دعائیں کیں اور وہ مقبول ہوئیں اور اگر سب نے نہیں تو آہستہ آہستہ بعض ملکوں نے ان پر عمل کرنا