خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 259
خطبات طاہر جلد ۱۰ 259 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء سے بے حد محبت رکھتا ہوں۔ان میں صلحاء بھی ہیں۔ان میں خدا کے بزرگ بھی ہیں اور خدا تعالیٰ کی عطاء کردہ خبر کے مطابق ان میں بڑے بڑے مرتبہ رکھنے والے لوگ ہیں۔صلحاء عرب بھی ہیں اور ابدال شام بھی ہیں۔پس جماعت احمدیہ کو سورہ فاتحہ سے یہ انکسار بھی سیکھنا چاہئے اور یاد رکھنا چاہئے کہ ہم میں سے ہر شخص کی نجات کی کوئی ضمانت نہیں کیونکہ ہر قوم میں ایسے استثناء ہوتے ہیں کہ اچھوں میں سے برے لوگ بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔اور بروں سے اچھے لوگ بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔اس لئے أَنْعَمْت کے مضمون میں کسی قوم کا ذکر فرمایا، نہ مَغضُوبِ اور الضَّالِّينَ کے مضمون میں کسی قوم کا ذکر فرمایا اور اس مضمون کو کھلا رہنے دیا۔اس کی بنیاد یہی ہے اور فیصلے کی کسوٹی یہی ہے کہ ہر وہ شخص اور ہر وہ قوم جو خدا تعالیٰ کی ان چار صفات سے گہرا تعلق جوڑتی ہے اور اپنے آپ کو دوئی کی ملونی سے پاک کرتی ہے جن صفات کا سورہ فاتحہ میں تعارف فرمایا گیا ہے تو وہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال ہو اور واقعہ وہ اپنے تعلق میں مخلص ہو تو آنْعَمْتَ عَلَيْهِہ میں شمار ہوگی لیکن ان کے اندر بھی استثناء ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔اس لئے ہمیشہ ہمیں نگر ان رہنا چاہئے اور اپنے نفس پر بھی نگران رہنا چاہئے اور بحیثیت جماعت اپنے بھائیوں اپنی بہنوں ، اپنے بچوں ، اپنے مردوں ، عورتوں اور بوڑھوں سب پر نگران رہنا چاہئے تو رمضان المبارک میں آپ جہاں دوسری دعائیں کریں گے وہاں سورۃ فاتحہ کو پڑھتے ہوئے ان مضامین کو پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی اصلاح کی بھی کوشش کریں۔اپنے اندر ایک شعور پیدا کرنے کی کوشش کریں۔اپنے شعور کو ہمیشہ بیدار رکھنے کی کوشش کریں اور اپنے بھائیوں کے لئے کمزوروں کے لئے اور غافلوں کے لئے بھی دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ سب کے اندر سے ایک باشعور انسان پیدا فرمادے جو خلق آخر کا آغاز ہوگا۔قرآن کریم نے جہاں خلق آخر کا ذکر فرمایا ہے جو خلق آخر انسان کے اندر سے پیدا ہوتی ہے اور اس کا آغاز اسی طرح ہوتا ہے کہ ایک غافل انسان سے ایک باشعور انسان جنم لینے لگتا ہے وہ رفتہ رفتہ آنکھیں کھولتا ہے کروٹ بدلتا ہے، اپنے اندرونی ماحول کو دیکھنے لگ جاتا ہے اس کے اندھیرے چھٹنے لگتے ہیں۔آنکھیں ملتا ہے تو اور زیادہ روشنی دکھائی دیتی ہے اور وہ اپنے نفس کا شعور ہے جو رفتہ رفتہ عرفان باللہ میں منتقل ہو جاتا ہے اور انسان کے اندر سے ایک خلق آخر ظاہر ہوتی ہے پس اس