خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 258 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 258

خطبات طاہر جلد ۱۰ 258 خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء ہیں پس دیکھئے سورہ فاتحہ نے کس حد تک عدل کا حق ادا فرمایا ہے۔مغضوب کی تاریخ بھی ہمارے سامنے کھول کر رکھ دی لیکن ساتھ یہ بھی متنبہ کر دیا کہ کسی ایک قوم کو ان معنوں میں مغضوب سمجھنا کہ ان میں پھر کوئی نیک آدمی پیدا نہیں ہوسکتا یہ غلط ہے اس لئے جہاں قومی طور پر مغضوب فرمایا وہاں نام کسی کا نہیں لیا اور جہاں قرآن کریم نے نام لے کر یہود کو مغضوب قرار دیا وہاں ساتھ ساتھ استثناء کرتا چلا گیا اور بار بار ہمیں متنبہ کیا که خبر دار من حیث القوم یهود کو مغضوب قرار دے کر تمام کے تمام کو رد نہ کر دینا اور تمام کے تمام کو جہنمی قرار نہ دے دینا۔اسی طرح من حیث القوم عیسائیوں کو ضال قرار دیتے ہوئے یعنی گمراہ قرار دیتے ہوئے پوری طرح رد کر کے نعوذ بالله من ذالك يہ دعویٰ کر بیٹھنا کہ یہ سارے کے سارے جہنمی ، گندے اور خدا سے دور لوگ ہیں۔بار بار قرآن کریم نے اس بات کا اظہار فرمایا کہ ان میں بھی بہت اچھے لوگ ہیں ان میں بھی نیک ہیں اخلاص سے ایمان لانے والے ہیں اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ جب تک یہ اپنے سچائی کے تصور کے مطابق اپنی تعلیمات پر عمل کرتے رہیں گے ان کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور ان کے اجر خدا کے ذمہ ہیں۔پس سورۂ فاتحہ نے جہاں مغضوب اور ضالین کا ذکر قوموں کے نام لئے بغیر فرمایا وہاں ہماری توجہ اس طرف بھی مبذول فرما دی اور اس میں بھی ہمارے لئے ایک امید کا پیغام ہے کہ اگر ایسی قو میں جو ہزار سال دو ہزار سال ، چار ہزار سال تک بار بار خدا تعالیٰ کی ناشکری کرتی رہیں اور اس کی نافرمانی کرتی رہیں اور اس کے بندوں پر ظلم بھی کرتی رہیں ان میں بھی نیکیوں کی گنجائش موجود ہے اور نیکی کی گنجائش موجود ہے تو محمد مصطفی ﷺ کا لایا ہوا دین جو آخری اور کامل دین ہے اس سے وابستہ لوگوں کے متعلق یہ کہنا کہ نعوذ باللہ وہ سارے جہنمی ہو گئے۔سارے کا فر اور بے دین ہو گئے یہ بہت ہی بڑا ظلم ہوگا۔پس جماعت احمدیہ کے لئے خصوصیت سے اس میں سبق ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے جہاں ایسے لوگوں پر سختی فرمائی ہے جنہوں نے ظلم اور تعدی اور عناد میں ہر حد پھلانگ دی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق نہایت ہی ناپاک اور ظالمانہ رویہ اختیار کیا ، وہ زبان اس گروہ کے محض چند لوگوں سے تعلق رکھتی ہے جو فساد اور فتنے اور ظلم میں حد سے زیادہ بڑھے ہوئے لوگ تھے۔عامۃ المسلمین سے اس کا تعلق نہیں چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس مضمون کو دوسری جگہ خود کھول کر بیان فرمایا ہے اور فرمایا۔جہاں تک عام مسلمانوں کا تعلق ہے ان