خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 257 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 257

خطبات طاہر جلد ۱۰ 257 خطبه جمعه ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء اور سورۂ فاتحہ کی فصاحت و بلاغت ہے کہ کسی قوم کسی مذہب کا نام نہیں لیا۔مضمون صرف یہ بیان فرمایا گیا کہ خدا کی مذکورہ چار بنیادی صفات سے جو شخص کلیہ تعلق کاٹ لے گا یا اس حد تک کاٹ لے گا کہ خدا کی رحمت سے وہ کاٹا جائے تو اسے مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ شمار کیا جائے گا اور جو شخص کچھ تعلق برقرار رکھے گا لیکن ٹیڑھے رنگ میں اور کجی کے ساتھ تو اس کو دا لین کے زمرے میں شمار کیا جائے گا۔اس مضمون پر آپ غور کریں تو بہت ہی وسیع تاریخی مطالعہ ہے جو آپ کے سامنے کھلتا ہے وہ قو میں جو مغضوب ہوئیں۔قرآن کریم نے خود بیان فرمایا ہے کہ کیوں مغضوب ہوئیں۔کس کس طرح، کس کس جگہ انہوں نے خدا کی بنیادی صفات سے اپنا تعلق توڑا اور ایک دفعہ نہیں بار بار تو ڑا اور کتنے لمبے عضو کے بعد، کتنے لمبے علم کے بعد بالآخر اللہ تعالیٰ نے انہیں مغضوب قرار دیا تو اس کے مطالعہ سے آپ کو معلوم ہوگا کہ کن چیزوں سے بچنا ہے اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔کوشش فرض ہے۔اگر ایک ٹھو کر کھاتے ہیں تو تب بھی ، اگر چہ خطرے کا مقام ہے لیکن آخری طور پر آپ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ کے لئے مردود نہیں قرار دیدیا گیا۔خدا تعالیٰ نے قوموں کو ایک لمبے عرصے کے بعد جو ہزار سال سے زائد عرصے پر پھیلا پڑا ہے ان کو ان کی بار بار کی غلطیوں کے نتیجے میں اور غلطیوں پر اصرار کے نتیجے میں مغضوب قرار دیا۔پس اس سے جو تصویر ابھرتی ہے وہ یہ ہے کہ آخری سانس تک جینے کی امید تو ہے لیکن اگر غلطیاں کرتے ہوئے ہم مارے گئے تو ہم مغضوب کی حالت میں مارے جائیں گے۔پس ایک طرف تو یہ امید کا پیغام بھی ہے اور دوسری طرف ایک عبرت کا پیغام بھی ہے اور یا در کھنے کے لائق بات یہ ہے کہ یہود کا نام سورۂ فاتحہ میں کیوں نہیں لیا گیا۔اس لئے کہ قرآن کریم یہ اعلان کرتا ہے کہ من حیث القوم مغضوب ہونے کے باوجود ان کے اندر آج بھی نیک لوگ موجود ہیں۔آج بھی حق پرست لوگ موجود ہیں آج بھی موحد موجود ہیں۔آج بھی خدا سے محبت کرنے والے موجود ہیں۔اگر انہیں اسلام کا صحیح پیغام پہنچتا یا محمد رسول اللہ ﷺ کے حسن سے ان کی شناسائی ہو جاتی تو وہ ضرور اسلام قبول کر لیتے اور محمد رسول اللہ اللہ کے غلاموں میں شامل ہو جاتے مگر اپنے اپنے ماحول میں کٹے ہوئے خدا کی عبادت کرتے ہیں اور اس سے پیار کرتے ہیں۔اس پر یقین رکھتے ہیں اس کے لئے قربانیاں دیتے