خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 254 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 254

خطبات طاہر جلد ۱۰ 254 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء فضل نازل ہو تو لوگ بھی جو تبصرے کرتے ہیں ان میں اس شخص کی خوبیاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے جو اس پر یہ فضل کیا ہے تو اس کی یہ بات سنی گئی۔اس کی یہ نیکی کام آئی اور ہمارے ہاں روز مرہ کے محاورے میں یہ بات اکثر سننے میں آتی ہے کہ اس کی فلاں نیکی کام آگئی حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ انسان کی نیکیاں کیا؟ ان کی حیثیت کیا ؟ خدا تعالیٰ اگر انسان کی نیکیوں کے مقابل پر اس کی بداعمالیوں کا حساب کرے تو کسی کے پہلے کوئی نیکی باقی نہ رہے۔اپنی نیکی کی طرف خیال آجاتا ہے اور بدیاں انسان بھول جاتا ہے اور خدا کے وہ احسانات جو خالصہ فضل کے نتیجے میں ہیں ان احسانات کو اپنی طرف منسوب کرنے لگ جاتا ہے کہ میری کسی خوبی کے نتیجے میں ایسا ہوا لیکن ایک عارف باللہ اس معاملے میں کبھی دھوکا نہیں کھاتا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام مناجات میں عرض کرتے ہیں کہ سب کچھ تیری تیری عطا ہے گھر سے تو کچھ نہ لائے کیسا سادہ لیکن کتنا عظیم اور قوی اظہار ہے کتنی گہری اور دائی حکمت ( در بین صفحہ :۔۔اس میں بیان فرما دی گئی ہے۔کچھ تیری عطا ہے سے تو کچھ نہ لائے پس الحمد للہ کہتے ہوئے جب تک یہ رجحان پیدا نہ ہو کہ سب کچھ تیری عطا ہے۔گھر سے ہم کچھ نہیں لائے تو اس وقت تک الحمد کا مضمون کامل نہیں ہو سکتا اور اس وقت تک اِيَّاكَ نَعْبُدُ کی دعا میں طاقت پیدا نہیں ہوسکتی پس جب آپ کلیتہ محمد سے اپنے آپ کو خالی کر لیتے ہیں۔اللہ کے جتنے احسانات ہیں ان کو خدا کے احسانات کے طور پر گنتے ہیں اور ان پر حمد کے گیت گاتے ہیں تو پھر جب إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ کہتے ہیں تو دل پوری سچائی کے ساتھ یہ عرض کرتا ہے خدا کے حضور یہ اقرار کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ ہم نے تو اپنی حد مجھی کچھ نہیں اس لئے ہم اپنی عبادت نہیں کرتے۔ہم نے تو کسی غیر کی کوئی حمد سمجھی ہی نہیں اس لئے ہم کسی غیر کی عبادت نہیں کرتے اور تو جانتا ہے اور تو دیکھ رہا ہے کہ جب تمام تر حمد ہم تیرے حضور پیش کر بیٹھے تو اب سوائے تیری