خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 251 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 251

خطبات طاہر جلد ۱۰ 251 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء باریک ہے اور اس کے بعض پہلو انسانی نظر سے ایسے مخفی رہتے ہیں کہ ساری زندگی کی محنت اپنے آپ کو اپنی حمد سے پاک کرنے کے لئے درکار ہے اور اس کے باوجود بھی انسان اس مقام محمود کو حاصل نہیں کر سکتا جو خدا تعالیٰ کے خاص بندوں کو عطاء ہوتا ہے اس لئے دعا کے ساتھ مدد مانگتے ہوئے انسان کونفس کا یہ جہاد ہمیشہ جاری رکھنا چاہئے۔جو انسان اپنی حمد کا عادی ہو وہ اکثر اوقات نَفَرِح فَخُورٌ بھی ہو جایا کرتا ہے۔اس کو چھوٹی چھوٹی باتوں پر بے حد خوش ہونے کی عادت پڑ جاتی ہے اور تعلمی کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے نفَرِح کے مضمون کو حمد کے ساتھ یعنی انسان کی جھوٹی حمد کے ساتھ باندھ کر پیش فرمایا ہے اس کا میں آگے جا کر ذکر کروں گا لیکن اس کے نظارے آپ نے بسا اوقات کھیلوں کے میدانوں میں بھی دیکھے ہوں گے کہ کبڈی کا ایک کھلاڑی ہے وہ کسی اچھے مضبوط کھلاڑی کو۔( پنجابی میں جس کو دھول“ کہتے ہیں اردو میں پتا نہیں۔دھول دھپا تو خیر اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ) ایک دھول لگا کر گراتا ہے اور اس کے شکنجے سے نکل کر واپس بھاگتا ہے تو عجیب وغریب حرکتیں کر رہا ہوتا ہے۔بعض دفعہ وہ ہاتھ اونچے کر کے دونوں انگلیاں کھڑی کر دیتا ہے بعض دفعہ منہ سے آوازیں نکالتا ہے کہ میں نے کمال کر دیا ہے بعض دفعہ وہ چھاتی پر ہاتھ مارتا ہے۔اسی طرح فٹ بال کے میدان میں جب بھی کوئی شخص گول کرتا ہے تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ وہ کس طرح عجیب و غریب حرکتیں کرتا اور اچھلتا کودتا اور فخر و مباہات کے اظہار کے لئے اپنے جسم کو مختلف شکلیں دیتا ہے، بعض آوازیں نکالتے ہیں، بعض خاموش اظہار کرتے ہیں۔یہ جو مناظر ہیں یہ نمایاں طور پر آپ کی نظر کے سامنے رہتے ہیں اور ان سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس حد تک حمد کا پیاسا ہے اور یہ پیاس اس کو مجبور کر دیتی ہے کہ جہاں حمد کے چند قطرے ملیں ان کو نہ صرف پیئے بلکہ فخر سے اظہار کرے کہ ہاں آج میری پیاس بجھ گئی۔یہ واقعات روزمرہ کی زندگی میں ہم سے ہورہے ہوتے ہیں جب ہم دوسروں کو دیکھتے ہیں تو دکھائی دیتے ہیں۔جب اپنے او پر نظر ڈالتے ہیں تو دکھائی نہیں دیتے۔پس اس لئے اس مضمون کو خوب کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے کہ اپنے اندر حمد چاہنے کا جذبہ اس طرح دکھائی نہیں دے گا جیسے دوسرے کا حمد چاہنے کا جذ بہ آپ کو دکھائی دیتا ہے۔دوسرے کی تعلی پر آپ کو بعض دفعہ بنسی بھی آجاتی ہے مگر یہ بھول جاتے