خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 249
خطبات طاہر جلد ۱۰ 249 خطبہ جمعہ ۲۲ / مارچ ۱۹۹۱ء ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور عطا کا کتنا دخل ہے؟ اگر اس مضمون کی طرف توجہ مبذول ہو تو ہر گویے کی خود اپنی نظر میں کوئی بھی حقیقت باقی نہ رہے۔ایک ایسے خاندان میں پیدا ہونا جس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اچھا گلا عطا کیا گیا ہو، ایسے ماحول میں پیدا ہونا جہاں آواز کو مزید مانجھ کر اور صیقل کر کے زیادہ خوبصورت اور دلکش بنایا جاسکتا ہو یعنی ایسے ذرائع مہیا ہونا۔ان بیماریوں سے پاک رہنا جو گلے کو خراب کرتی ہیں اور آواز کو تباہ کر دیتی ہیں۔یہ ساری باتیں بھی قابل غور ہیں مگر سطحی ہیں۔ان سے اور نیچے اتر کر جب آپ صوتی نظام کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھ کر حیران رہ جاتے ہیں کہ کس طرح ہر انسان کے گلے میں خدا تعالیٰ نے ایک صوتی نظام قائم فرمایا ہوا ہے جوار بوں سال کے عرصے میں ترقی کر کے یہاں تک پہنچا ہے اور اسے مانجھنے اور صیقل کرنے اور اسے چمکانے اور اس کی صلاحیتوں کو مزید اجاگر کرنے میں زندگی کی ہزار ہانسلیں اس سے پہلے اپنے اپنے دور طے کرنے کے بعد ماضی کا حصہ بن گئیں اور کسی کو علم نہیں کہ ان تجارب میں جو قدرت نے ان کے ساتھ کئے۔کیا کیا کارروائیاں آواز کے نظام کو مکمل کرنے کے لئے کی گئیں۔جو جاندار ہمیں آج دکھائی دیتے ہیں ان کی زندگی کے آغاز سے لے کر اب تک کا مطالعہ بھی ہمیں بہت کچھ سبق دیتا ہے اور انسان یہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے کہ کس طرح آواز کا آغاز ہوا حالانکہ اس سے پہلے یہ کائنات بالکل خاموش تھی۔زندگی موجود تھی لیکن زندگی کا ایک جزو زندگی کے دوسرے جز و تک آواز کے ذریعے نہیں پہنچ سکتا تھا۔یہ مضمون پہلے بھی میں نے اس حد تک بیان کیا ہے لیکن اب میں اس تعلق میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہر وہ شخص جس کو خدا نے اچھی آواز عطا کی ہے اگر اس کا ذہن ان چیزوں کی طرف کبھی منتقل نہ ہو اور ہمیشہ اپنی ہی تعریف میں ڈوب جایا کرے تو اس کے دل سے ایک بت پیدا ہونا شروع ہو جائے گا جو مزید طاقتور ہوتا چلا جائے گا اور اس کے باقی وجود پر بھی قابض ہو جائے گا کیونکہ شرک کا بت اپنے دائرے تک محدود نہیں رہا کرتا بلکہ پھیلتا ہے اور بڑھتا ہے اور زیادہ طاقتور ہوتا چلا جاتا ہے۔اسی طرح ایک اچھا مقرر ہے جب وہ بہت اچھی تقریر کرتا ہے اور داد پاتا ہے یا ایک اچھا شاعر ہے جسے خدا توفیق دیتا ہے کہ اپنے خیالات کو نہایت لطافت کے ساتھ شعروں کے خوبصورت کوزوں میں بند کر کے دنیا کے سامنے پیش کرے تو عموماً یہی مضمون دو ہرایا جاتا ہے جس کا میں پہلے آواز کے سلسلے