خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 240 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 240

خطبات طاہر جلد ۱۰ 240 خطبہ جمعہ ۱۵ مارچ ۱۹۹۱ء دیکھنے والا ایک سادہ لوح زمین دار یا ایک بچہ بھی کچھ نہ کچھ اس سے مرعوب ہوکر خدا کی حمد کے گیت گا سکتا ہے اور ان ہی معنوں میں گا سکتا ہے کہ اچھا اور کچھ نہیں تو اے خدا! تو ہی اس بجلی کا مالک ہے مجھے بچالے اور یہی میری حمد ہے۔لیکن جتنا زیادہ علم بڑھے گا۔اتنازیادہ زیادہ بجلی سے تعلق رکھنے والا حمد کا مضمون بھی پھیلتا چلا جائے گا۔اب دنیا کے سائنس دانوں نے بجلی پر جو غور کیا ہے تو ایک بات اس میں بڑی قطعی ہے جو عام لوگوں کو معلوم نہیں کہ بجلی کے بغیر پانی برس ہی نہیں سکتا۔پس ایک سادہ لوح بے علم آدمی کی حمد بھی اپنی توفیق کے مطابق چونکہ حمد کے جذبے سے بیان کی گئی ہے اس لئے خدا کو مقبول ہوگی لیکن اس کی حمد میں وہ لذت نہیں پیدا ہو سکتی جو لذت اس مضمون کا علم رکھنے والے کی حمد میں ہوگی اگر اس کو خدا سے تعلق ہو۔یہ پانی جو بخارات بن کر آسمان پر چلا جاتا ہے، اگر بجلی نہ ہوتی تو یہ کبھی پانی بن کر دوبارہ زمین پر واپس نہ آتا۔یہ بجلی کے کڑکے ہیں جو پانی کے باریک ذرات کو مجتمع کر دیتے ہیں اور بھاری بنا دیتے ہیں اور پھر وہ پانی و دق“ کی طرح نیچے گرنا شروع ہو جاتا ہے۔یہ ویسا ہی ہے جیسے بجلی سے انسان مر جاتے ہیں۔اس لئے وہ مرتے ہیں کہ ان کے خون میں جو لٹکے ہوئے ذرات ہیں وہ بجلی کے گزرنے سے مجتمع ہو کر Clots بن جاتے ہیں اور بھی بجلی لگے ہوئے انسان کا رنگ کالا ہو جاتا ہے کیونکہ وہ خون جم کر سیاہ ہو جاتا ہے تو پانی جمانے کے لئے بھی بجلی چاہئے اور وہ بار یک ذرے جو ہمیشہ ہوا میں معلق رہ جاتے ہیں یہ بجلی کے کڑکے ہی ہیں جو انہیں اکٹھا کرتے ہیں اور پھر وہ بھاری ہوکر زمین پر گرنا شروع ہو جاتے ہیں تو ان غد کی پھر یہ تعریف ہے۔فرشتوں نے تو اپنے طور پر تعریف کی لیکن مضمون کی گہرائی میں نہیں اتر سکے۔الرَّعْدُ خود جانتی ہے کہ میں کیا چیز ہوں فرمایا:۔وَيُسِحُ الرَّعْدُ بِحَمدِہ بجلی کا ہر کڑ کا اپنے رب کی حمد کر رہا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ وہ بھی فرشتوں کی طرح اچھے کاموں پر مامور ہے۔اور اس کے نتیجے میں بہت سے بنی نوع انسان کو فوائد حاصل دست ہور ہے ہیں۔پھر اس مضمون پر آپ مزید غور کریں تو یہ معلوم کر کے آپ حیران ہوں گے کہ دنیا کی زرخیزی کا براہ راست بجلی سے تعلق ہے۔پس ایک سادہ لوح انسان، کم علم انسان تعریف تو کرتا ہے لیکن اس کی تعریف میں ڈر زیادہ شامل ہوتا ہے، بجلی کا رعب زیادہ شامل ہوتا ہے۔حقیقت کا علم اس