خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 19 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 19

خطبات طاہر جلد ۱۰ 19 خطبہ جمعہ ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء کلام اللہ کا ساتھ دیں گے، ہمیشہ سنت نبوی کا ساتھ دیں گے اور جس نے ہمارا ہمیشہ کا دوست بنتا ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ کلام اللہ کا دوست بن جائے، وہ سنت نبوی محمد ﷺ کا دوست بن جائے اور حق کا دوست بن جائے۔سچائی کا دوست ہو جائے۔ایسی صورت میں وہ ہمیں ہمیشہ اپنے ساتھ پائے گا۔پس اس مختصر وضاحت کے بعد اب میں دوبارہ اسی مسئلے کو آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس پر دو خطبات چھوڑ کر اس سے پہلے کئی خطبات میں میں نے گفتگو کی۔یعنی عراق کو یت کے جھگڑے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی عالمی صورت حال ، اب صرف چند دن ایسے رہ گئے ہیں جن میں امن کی کوششیں بہت تیز کر دی گئی ہیں اور بالآ خر رخ اسی مشورے کی طرف ہے جو مشورہ میں نے آغاز میں قرآنی تعلیم کی صورت میں پیش کیا تھا۔میں نے قوموں کو متوجہ کیا تھا کہ اس کو اسلامی معاملہ رہنے دیں اور عالم اسلام آپس میں نپٹا ئے۔عالم عرب بھی نپٹانے کی کوشش کرے مگر فی الحقیقت یہ درست نہیں ہوگا کہ عرب اسے صرف اپنا عرب مسئلہ بنالیں لیکن افسوس ہے کہ اس معاملہ میں جو کوششیں شروع کی گئی ہیں وہ بہت ہی تاخیر سے شروع کی گئی ہیں۔اب عالمی مسئلے سے عرب مسئلے کی طرف تو توجہ بڑی بڑی قوموں کی مبذول ہو چکی ہے۔لیکن مسلمان مسئلے کے متعلق ابھی چند دن پہلے پاکستان میں بعض وزارئے خارجہ کی ایک کانفرنس ہوئی۔اس میں اس مسئلے کو چھیڑا گیا اور پاکستان کی طرف سے ایک کوشش کی گئی کہ تمام دنیا کے مسلمان ممالک مل کر اس مسئلے کو سلجھانے کی کوشش کریں۔لیکن اتنی تاخیر کے ساتھ اُٹھایا گیا قدم ہے کہ بظاہر اس کے نتیجے میں کچھ ہوتا ہوا دکھائی نہیں دیتا۔موجود صورت یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ ان قوموں کی فہرست میں اولیت رکھتے ہیں جو شدت کے ساتھ عراق کو چل دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہیں اور ان ہی کی راہنمائی میں ، ان ہی کی سیادت اور قیادت میں جنگ کا طبلہ بجایا جا رہا ہے اور بار بار اس بات کو دُہرایا جارہا ہے کہ عراق کو نیست و نابود کر دینا ضروری ہے تا کہ دُنیا باقی رہے۔یعنی عراق اگر اپنی اس طاقت کے ساتھ باقی رہ گیا اور اسے اور موقعہ مل گیا تو دنیا کا امن مفقود ہو جائے گا بلکہ دنیا کے وجود کو شدید خطرہ لاحق ہو گا یہ ایک مؤقف ہے جسے بلند آواز سے دنیا کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے اور بار بار جب انٹرویوز ہوتے ہیں یا اخبارات میں ان لوگوں کے سوال و جواب چھپتے ہیں تو ان میں ایک بات کو پیش کیا جا رہا ہے کہ دیکھو عراق نے کویت پر کتنے مظالم کئے ہیں اور اتنے خوفناک مظالم کے بعد جو عالمی رائے عامہ ہے کس طرح اس کو