خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 20 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 20

خطبات طاہر جلد ۱۰ 20 20 خطبہ جمعہ اار جنوری ۱۹۹۱ء نظر انداز کر سکتی ہے۔ایسے ظالموں کو جنہوں نے قتل و غارت کیا ،جنہوں نے لوٹ مار کی ،گھروں کو جلایا ، ان کوخود زندہ رہنے کا کیا حق رہ جاتا ہے۔اگر آج اس ظلم کے خلاف بیک وقت تمام قوموں نے مل کر پیش قدمی نہ کی اور ظالم کو سزا نہ دی تو پھر فلموں کی راہیں کھل جائیں گی اور کوئی بھی کسی کو ظلم کی راہ پر چلنے سے روک نہیں سکے گا۔یہ موقف ہے اس کا خلاصہ یہ ہے اور عراق کا مؤقف اس کے برعکس یہ ہے کہ تم بڑے بڑے اصولوں کی اور اعلی اخلاق کی باتیں کر رہے ہو لیکن بھول جاتے ہو کہ مشرق وسطی میں عرب علاقوں میں جو کچھ بھی بے اطمینانی ہے اور بے چینی ہے جس کے نتیجے میں بار بار امن کو خطرہ لاحق ہوتا ہے اس کے اصل ذمہ دار تم ہو اور جب بھی ایسے مواقع آئے جب اُن مسائل کو جو مشرق وسطی سے تعلق رکھتے ہیں حل کیا جا سکتا تھا تو تم ہی وہ لوگ ہو جنہوں نے روکیں پیدا کیں اور ایسی ہی بات جو ہم نے کی ہے یعنی جسے تم نا جائز قبضہ کہتے ہو، عراق ناجائز تو نہیں کہتا مگر کہتا ہے کہ جس طرح ہم نے کویت پر قبضہ کیا ہے اس طرح اسی قریب کے زمانے میں اسرائیل نے اُردن کے مغربی کنارے پر قبضہ کر رکھا ہے اور تم United Nations کی باتیں کرتے ہو حالانکہ United Nations نے بار ہا ریزولیوشنز کے ذریعے اسرائیل کو قبضہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشیش کیں اور ہر بار خصوصیت کے ساتھ امریکہ نے ان کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکائے اور بلکہ اگر Resolutions کو Vito کرنا پڑا تو ویٹو کر دیا۔تو عراق ،امریکہ اور برطانیہ کو مخاطب کر کے یہ کہتا ہے کہ تم اخلاق اور پھر اعلی اصولوں کی باتیں ترک کر دو۔اگر واقعی تمہارے نزدیک ان اصولوں کی کوئی قدر و قیمت ہے تو پھر مجموعی طور پر ان تمام مسائل کو ایک ہی پیمانے سے ناپنے کی کوشش کرو اور ایک ہی طریق پر حل کرنے کی کوشش کرو، جو مسائل عراق کویت مسئلے سے ملتے جلتے پہلے سے موجود ہیں اگر تم ایسا کرو تو ہم اس بات پر رضامند ہوتے ہیں کہ ہم بھی انہی اصولوں کے مطابق جو بھی انصاف کے فیصلے ہیں ان کے سامنے سرتسلیم خم کریں گے۔ایک پہلو تو ان کے مؤقف کا یہ ہے۔دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر کسی ملک کو کسی ملک پر قبضہ کرنے کی اجازت دے دی جائے محض اس لئے کہ وہ طاقتور ہے تو پھر دنیا سے امن ہمیشہ کیلئے اُٹھ جائے گا۔یعنی ظلم والے حصے کے علاوہ اس کو الگ پیش کیا جاتا ہے اور قبضے والے حصے کو الگ پیش کیا جاتا ہے گویا وہ دو دلائل ہیں۔اب تعجب کی بات یہ ہے کہ جوتو میں یہ باتیں کرتی ہیں اُن کی اپنی تاریخ اُن کے خلاف ایسی سخت گواہی دیتی ہے کہ کبھی دنیا