خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 225
خطبات طاہر جلد ۱۰ 225 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء ہوتی ہیں خواہ ظاہری لفظوں میں شرط کا ذکر ہو یا نہ ہو۔اس کی واضح مثال حضرت یونس کے واقعہ میں ملتی ہے کہ ایک قطعی پیشگوئی ان کی قوم کی تو بہ اور گریہ وزاری سے ٹل گئی۔پس اسرائیل کی تباہی یا بقا کا فیصلہ اگر چہ آسمان پر ہوگا لیکن اگر یہود کے معتدل مزاج اور امن پسند عناصر، انتہاء پسند صیہونیوں پر غلبہ حاصل کرلیں اور ان کی سرشت میں داخل بہیمانہ انتقام پسندی کے پنجے کاٹ دیں اور بحیثیت قوم یہود یہ انقلابی فیصلہ کرلیں کہ مسلمان ہوں یا عیسائی ہر دوسری قوم سے انصاف بلکہ احسان کا معاملہ کریں گے تو میں انہیں یقین دلاتا ہوں کہ جیسا کہ قرآن کریم میں وعدہ ہے اللہ تعالیٰ ان سے احسان کا سلوک فرمائے گا اور مسلمان بھی ان کے ساتھ عدل واحسان کا سلوک کریں گے انہیں یا درکھنا چاہئے کہ ملاں کی سرشت اسلام کی سرشت نہیں۔قرآن اور اسوۂ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو سرشت مسلمان کو بخشی ہے اس میں انتقام نہیں بلکہ عفو اور بخشش اور رحم کا جذبہ غالب ہے۔عیسائی مغربی قوموں کو بھی میں خلوص دل سے یہ سمجھانا چاہتا ہوں کہ قرآن اور احادیث میں مندرج پیشگوئیوں میں آپ کے لئے جن عبرتناک سزاؤں کا ذکر ملتا ہے انہیں حقارت اور استہزاء کی نظر سے نہ دیکھیں آسمانی نوشتے کبھی زمینی چالاکیوں سے ٹالے نہیں جاسکتے اگر ٹالے جاسکتے ہیں تو کچی تو بہ اور استغفار اور پاک تبدیلی سے اگر ایسا ہو تو اللہ تعالیٰ کی مغفرت جواس کے غضب پر حاوی ہے ہر مقدر سزا کو ٹالنے یا کالعدم کرنے پر قادر ہے۔پس ضروری ہے کہ اپنی سیاسی اور اقتصادی اور اخلاقی اور معاشرتی طرز فکر میں بنیادی تبدیلی پیدا کریں۔ہر میدان میں بلا استثناء عدل کے تقاضوں کو قومی اور نسلی مفادات کے تقاضوں پر غالب کریں۔غریب اور کمزور قوموں سے حسن سلوک کریں۔اگر اسلام قبول نہیں کر سکتے تو کم سے کم تو رات اور انجیل کی پاکیزہ تعلیم ہی کی طرف لوٹیں اور اپنی تہذیب کو ہر لحظہ بڑھتی ہوئی بے حیائی سے پاک کریں۔اگر آپ ایسا کریں تو آپ کی تقدیر شر، تقدیر خیر میں بدل جائے گی اور اہل اسلام اور دوسرے بنی نوع انسان کے ساتھ مل کر آپ کو ایک نظام نو کی تعمیر کی تو فیق ملے گی اور انسان کا امن عالم کا خواب حقیقت میں ڈھل جائیگا۔اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو نظام کہنہ تو بہر حال مٹایا جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی بہت سی قوموں کی عظمتیں بھی مٹادی جائیں گی اور ہمیشہ کیلئے ان کی جاہ وحشمت خاک میں مل جائے گی مگر