خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 226
خطبات طاہر جلد ۱۰ 226 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء میری تو یہی تمنا اور یہی دعا ہے کہ نظام جہان نو ، تباہ شدہ قوموں کے کھنڈرات پر نہیں بلکہ تبدیل شدہ اور اصلاح پذیر قوموں کی آب و گل سے تعمیر کیا جائے۔جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہمیں تو ہمارے خدا نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ تم کمزور ہو۔چودہ سو سال پہلے محمد رسول اللہ ﷺ نے یہ نصیحت فرما دی تھی کہ خدا نے اتنی بڑی بڑی تو میں آئندہ نکالنی ہیں کہ دنیا میں کسی انسان کو ان کے مقابلے کی طاقت نہیں ہوگی اس لئے دنیاوی ہتھیاروں سے ان کے مقابلے کی کوشش کا خیال بھی دل میں نہ لانا۔یہ مسلم کی کتاب الفتن کی حدیث ہے ہر شخص اس میں مطالعہ کر سکتا ہے۔فرمایا ! دعا کے ذریعے ہو گا جو کچھ ہو گا۔خدا کی نقدید ان کو مارے گی اور خدا کی تقدیر یہ فیصلہ اس وقت کرے گی جب یہ طاقتور قو میں دنیا سے بدی کا فیصلہ کریں گی۔چونکہ خدا نے دنیا کو نہتا کر رکھا ہے مجبور کر رکھا ہے اور ایک طرف طاقتوں کو بدی کا موقع عطا کر دیا ہے اس لئے لازماً اپنے کمزور بندوں کی حفاظت کی ذمہ داری خدا تعالیٰ پر ہوگی۔پس اس کی آسمانی تائید کو حاصل کرنے کا ایک ہی طریق ہے کہ خدا سے تعلق جوڑا جائے اور جس حد تک ممکن ہوا اپنے نفوس کی اصلاح کی جائے۔اسلام کے نام پر آئندہ کبھی کوئی بدی اختیار نہ کی جاۓ۔Terrorism کا تصور ہی مسلمانوں کی لغت سے نکل جانا چاہئے۔شرارتیں کرنا اور دوسروں کو دیکھ دے کر بعض مسائل کو زندہ رکھنا یہ جاہلانہ باتیں ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔خود امن میں آجاؤ،خود اپنے تعلقات کو درست کر لو۔غیر قوموں سے اپنے تعلقات کو درست کرو اور صبر کے ساتھ انتظار کرو پھر دیکھو کہ کس طرح خدا کی تقدیر دنیا کی ہر دوسری قوم کی تدبیر پر غالب آجائے گی۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور انور نے فرمایا! آج خطبہ گزشتہ دو خطبوں سے بھی زیادہ لمبا ہو گیا ہے کیونکہ میں اس کو ختم کرنا چاہتا تھا۔یہ ایک مجبوری تھی جو اس مضمون کو زیر بحث لایا گیا ہے ورنہ دل یہی چاہتا ہے کہ واپس اپنے پہلے مضمون کی طرف جلد لوٹیں یعنی یہ کہ عبادت کیا ہے اور اس کی کیا لذتیں ہیں، یہ لذت کس طرح حاصل کی جاتی ہے۔سورہ فاتحہ کیا سبق دیتی ہے۔تو میں یہ فیصلہ کر کے آج آیا تھا کہ چاہے جتنی دیر ہو جائے اس مضمون سے آج پیچھا چھڑا لینا ہے اور دوبارہ اپنے دائمی مضمون کی طرف یعنی جہاد اکبر کی طرف لوٹنا ہے تو انشاء اللہ آئندہ خطبے سے پھر وہی نماز کا مضمون شروع ہو گا۔