خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 210
خطبات طاہر جلد ۱۰ 210 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء پس تیسری دنیا میں جتنے دوسرے چاہیں حل اختیار کر لیں جب تک عزت نفس کو زندہ نہیں کیا جاتا، جب تک وقار کو زندہ نہیں کیا جاتا جب تک احسان کے جذبوں کو زندہ نہیں کیا جاتا، جب تک تمام انسانی قدروں کا عہد نہیں کیا جاتا اس عہد کو پورا کرنے کے سامان نہیں کئے جاتے ،اس وقت تک تیسری دنیا کی تقدیر بدل نہیں سکتی اور تیسری دنیا آزاد نہیں ہوسکتی۔پس ترقی یافتہ قومیں جن کو پہلی دنیا کہا جاتا ہے، نہ صرف آزاد ہیں بلکہ آپ کو غلام بنانے کے لئے پہلے سے زیادہ مستعد اور تیار ہو رہی ہیں اور جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اقتصادی قدم اس رخ پر ہے کہ اس کے بعد یہ چاہیں نہ چاہیں یہ ان قدموں کے ذریعہ تیسری دنیا کی غریب قوموں کو مزید پامال کرنے پر مجبور ہوتی چلی جائیں گی کیونکہ یہ اپنا معیار نہیں گزار ہیں اور ان کی سیاسی طاقتوں میں یہ استطاعت ہی نہیں ہے کہ اپنی قوم کو معیار گرانے کے مشورے دیں۔جو پارٹی ایسا کرے گی یہ پارٹی انتخاب ہار جائے گی اس لئے یہ ایسے غلیظ پھندے میں جکڑے جاچکے ہیں کہ ظلم پر ظلم کرنے پر اب مجبور ہو چکے ہیں۔اس لئے اپنے دفاع کے لئے تیسری قوموں کو خو داٹھنا ہوگا اس کے بغیر نہ ان کو اپنی فوجوں سے آزادی ہو سکتی ہے نہ اپنی بداخلاقیوں سے آزادی ہو سکتی ہے ، نہ ان سب لعنتوں سے آزادی مل سکتی ہے جس کا میں نے ذکر کیا ہے اور جب قومیں ان بیماریوں کا شکار ہوں تو پھر یہ شکوہ کیا کہ ہم مر رہے ہیں اور گدھیں ہمارے پاس آکر بیٹھی ہماری موت کا انتظار کر رہی ہیں۔مارنے کے لئے آپ کے جسم کے اندر بیماری پیدا ہوتی ہے اور وہ بیماری جراثیم کو دعوت دیتی ہے۔جراثیم سے بھی بیماری پیدا ہوتی ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ صحت مند جسم کو جراثیم کچھ نہیں کہہ سکتے۔پس بیماری کا آغا ز اندر سے ہوتا ہے نہ کہ باہر سے جب جسموں کی دفاع کی طاقت ختم ہو جائے تو پھر جراثیم وہاں پہنچتے ہیں اور جسموں پر قبضہ پالیتے ہیں اور جب ان کا قبضہ مکمل ہوجاتا ہے تو پھر یہ جسم لا زماموت کے منہ میں جاسوتے ہیں اور پھر گدھوں کا آنا اور ان کی بوٹیاں نوچنا اور ان کی ہڈیاں بھنبھوڑ نا یہ ایک قدرتی عمل ہے جس نے بعد میں لازماً آنا ہے امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تقدیر ہے جس سے کوئی دنیا کی طاقت آپ کو بچا نہیں سکتی اگر آج آپ خود فیصلہ نہ کریں۔پس پیشتر اس کے کہ اس کنارے تک پہنچ جائیں اور پھر آپ کی لاشیں خواہ کھلے میدان میں عبرت کا نشان بن کر پڑی رہیں یا قبروں میں دفن کی جائیں اور اگر آج آپ یہ فیصلہ کر لیں کہ حضرت