خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 17

خطبات طاہر جلد ۱۰ 17 خطبه جمعه ۱۱ جنوری ۱۹۹۱ء خلیج کا بحران ، عراق کی تباہی یقینی بنادی گئی ہے۔ ( خطبه جمعه فرموده اار جنوری ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ جب خیبر کا قلعہ فتح ہوا تو اُس کے بعد حضرت اقو صلى الله رت اقدس محمد رسول اللہ علیہ کا نکاح حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ہوا ۔ چنانچہ اس نکاح کے بعد اُس سفر سے واپسی پر حضرت اقدس محمد رسول لله ﷺ جس اونٹنی پر سوار تھے اسی سواری کے پیچھے حضرت صفیہ کو بھی پیچھے بٹھا لیا۔ جو باتیں اس عرصے میں ہوئیں اُن میں سے ایک خاص موضوع پر جو گفتگو آپ نے فرمائی وہ احادیث میں محفوظ ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ صفیہ! میں تم سے بہت معذرت خواہ ہوں اور دل کی گہرائی سے معذرت کرتا ہوں اس بات پر جو میں نے تمہاری قوم کے ساتھ کی یعنی یہودیوں کا قلعہ خیبر جو فتح کیا اور اس دوران جو یہود کے ساتھ سختی کی گئی اُس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صفیہ سے آنحضرت ﷺ نے معذرت فرمائی۔ لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ میں تمہیں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ اس واقعہ سے پہلے تمہاری قوم نے مجھ سے کیا سلوک کیا تا کہ تمہیں یہ غلط نہی نہ رہے کہ گویا میں نے کسی تعصب کے نتیجے میں نا واجب ظلم کے طور پر قلعہ خیبر پر حملہ کیا اور اس کو تاخت و تاراج کیا۔ چنانچہ آنحضور ﷺ نے آغاز سے لے کر اس وقت تک کے یہود قبائل کے ان مظالم اور ظلم وستم کا ذکر کرنا شروع فرمایا جو شروع سے ہی وہ کرتے چلے آئے تھے اور پھر اپنی ذات سے متعلق خصوصیت سے حضرت صفیہ کو بتایا کہ کس طرح میرے اوپر یہ لوگ ذاتی حملے کرتے رہے اور صلى الله میری کردار کشی کرتے رہے اور گالیاں دیتے رہے اور اس ساری گفتگو کا مقصد یہ تھا کہ نکاح کے بعد جو خاتون گھر میں تشریف لا رہی ہیں اُن کے دل پر کسی قسم کی غلط فہمی کا داغ نہ رہے اور آنحضرت ﷺ کی اس صلى الله عليه