خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 202 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 202

خطبات طاہر جلد ۱۰ 202 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء عزت نفس کا فقدان ہاتھ پھیلانے کی گندی عادت اور اس عادت کے نتیجے میں معیار زندگی کا جھوٹا ہو جانا آپ نے دیکھا ہو گا بعض دفعہ امیر آدمی بھی ہوٹلوں پر اس طرح خرچ نہیں کرتا جس طرح ایک مانگنے والا بھکاری بعض دفعہ خرچ کر دیتا ہے۔اس کے نزدیک دولت کی قدر ہی کوئی نہیں ہوتی۔پیسے مانگے اچھا کھالیا اور چھٹی ہوئی اور اگلے وقت کے لئے خدا تعالیٰ پھر ہاتھ سلامت رکھے تو مانگنے کے لئے کافی ہیں۔بالکل یہی نفسیات ان قوموں کی ہو جایا کرتی ہے۔ایک جھوٹا فرضی معیار زندگی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں اور دیکھنے میں خوشحال دکھائی دیتے ہیں حالانکہ ان کی مانگے کی خوشحالی ہے اس خوشحالی کی وجہ سے دھوکے میں مبتلا رہتے ہیں۔غربت کی تنگی ان کو مجبور کر سکتی تھی کہ وہ اقتصادی لحاظ سے اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں اور اس کے لئے محنت کریں اور کوشش کریں وہ تنگی صرف وہاں محسوس ہوتی ہے جہاں قوم کا طبقہ بے بس ہے اور جہاں صاحب اختیار طبقہ ہے وہاں محسوس نہیں ہوتی یعنی ایسی قومیں دو حصوں میں بٹی ہوئی ہیں ایک بہت ہی محدود طبقہ ہے جو بالائی طبقہ کہلاتا ہے وہ غریب کی زندگی سے بالکل بے حس ہے اور اس کو پتا ہی نہیں کہ غریب ان کی آنکھوں کے نیچے کیسے بدحال ہیں۔زندگی گزار رہے ہیں۔پس جہاں تکلیف محسوس ہوتی ہے وہاں اختیار کوئی نہیں ، وہاں قوم کی پالیسیاں نہیں بنائی جاتیں اور جہاں پالیسی بنانے والے دماغ ہیں ، حکمت عملی طے کرنے والے سر ہیں وہاں تکلیف کا احساس نہیں پہنچتا۔پس ایک گہری اعصابی بیماری ہے جس طرح ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو نچلے دھڑ کا اوپر کے دھڑ سے واسطہ نہیں رہتا۔پاؤں جل بھی جائیں تو دماغ کو پتا نہیں لگتا۔پس یہ ہولناک بیماری ہے جو بھیک مانگنے کے نتیجے میں تیسری دنیا کے ملکوں کو لاحق ہو چکی ہے۔اس کے بعد فوجی امداد کی بات آپ دیکھ لیجئے۔زیادہ مہنگے ہتھیار جب آپ خریدیں گے تو وہ اقتصادی حالت جس کا پہلے ذکر گزرا ہے وہ اور بھی زیادہ بدتر ہوتی چلی جائے گی اور یہی ہو رہا ہے اور چونکہ آپ زیادہ نہیں خرید سکتے اس لئے مانگنے پر مجبور ہیں۔جب آپ ہتھیار دوسری قوموں سے مانگتے ہیں تو ہتھیارون کے ساتھ ان کے فوجی تربیت دینے والے بھی آجاتے ہیں یا آپ کے فوجی تربیت حاصل کرنے کے لئے ان کے ملکوں میں بھی جاتے ہیں اور جتنا بھی غیر قوموں کا جاسوسی کا نظام تیسری دنیا میں موجود ہے اس کا سب سے بڑا ذمہ دار یہی فیکٹر (Factor) یہی صورتحال ہے کہ ہتھیار مانگنے کے نتیجہ میں اپنی فوج کو دوسرے ملکوں کے تابع فرمان بنانے کے احتمالات پیدا کر دیتے