خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 198 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 198

خطبات طاہر جلد ۱۰ 198 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء لئے ہم اس کو بھی اپنے قبضے میں لے لیں تو اس نقطہ نگاہ سے مشرق وسطی کی تین قوموں کا اتحاد نہایت ضروری ہے ایران عراق اور اردن اور اس کے علاوہ دیگر عرب قوموں سے ان کی مفاہمت بہت ضروری ہے تا کہ یہ تین نظر کے ایک طرف نہ رہیں بلکہ کسی نہ کسی حد تک دیگر عرب قوموں کی حمایت بھی ان کو حاصل ہو۔ایک اور مسئلہ جواب اٹھایا جائے گا وہ سعودی عرب کے اور کویت کے تیل سے ان عرب ملکوں کو خیرات دینے کا مسئلہ ہے جو تیل کی دولت سے خالی ہیں۔یہ انتہائی خوفناک خود کشی ہوگی اگر ان ملکوں نے اس طریق پر سعودی عرب اور کویت کی امداد کو قبول کر لیا کہ گویا وہ حق دار تو نہیں ہیں لیکن خیرات کے طور پر ان کی جھولی میں بھیک ڈالی جارہی ہے تو اس کے نتیجے میں فلسطین کے مسئلے کے حل ہونے کے جو باقی امکانات رہتے ہیں وہ بھی ہمیشہ کے لئے مٹ جائیں گے اس لئے اس مسئلے پر عربوں کو یہ موقف اختیار کرنا چاہئے کہ عربوں کو خدا تعالیٰ نے جو تیل کی دولت دی ہے وہ سب کی مشتر کہ دولت ہے اور ایسا فارمولہ طے کرنا چاہئے کہ اس مشترک دولت کی حفاظت بھی مشترک طور پر ہو اور اس کی تقسیم بھی منصفانہ ہو۔البتہ جن ملکوں میں یہ دولت دریافت ہوئی ہے ان کو ۱٫۵ حصہ جیسا کہ اسلامی قانون خزائن کے متعلق ہے 1/5 یا فقہاء کے نزدیک اختلاف ہوں گے، کچھ نہ کچھ حصہ زائد دے دیا جائے۔مگر مشتر کہ دولت کے اصول کو منوانا ضروری ہے اور اس پر قائم رہنا ضروری ہے، اس کے بعد ان کو جو کچھ ملے گا وہ عزت نفس قربان کر کے نہیں ملے گا بلکہ اپنا حق سمجھتے ہوئے ملے گا اور امر واقعہ یہی ہے کہ سارا عالم عرب ایک عالم تھا جسے مغربی طاقتوں نے توڑا ہے اور اپنے وعدے توڑتے ہوئے تو ڑا ہے ورنہ پہلی جنگ عظیم کے معا بعد واضح قطعی وعدہ انگریزی حکومت کی طرف سے تھا کہ ہم ایک متحد آزاد عرب کو پیچھے چھوڑ کر جائیں گے اور متحد آزا د عرب کا وعدہ ان کے حق میں ابھی تک پورا نہیں ہوا۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت سارے عرب کی دولت مشتر کہ دولت تسلیم کر لی گئی تھی اور اسی اصول کو پکڑ کر اسے مضبوطی سے تھام لینا چاہئے اور اس گفت و شنید کو ان خطوط پر آگے بڑھانا چاہئے۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس تمام خطے کی ایک اقتصادی دولت مشتر کہ بنی چاہیئے۔اس سے پہلے صدر ناصر نے جو ایک عرب کا تصور پیش کیا تھا وہ سیاسی وحدت کا تصور تھا۔ضروری نہیں ہوا