خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 197
خطبات طاہر جلد ۱۰ 197 خطبه جمعه ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء ضروری ہے کہ یہ تمام مسلمان قو میں جن کا ان مسائل سے تعلق ہے، فوری طور پر آپس میں سر جوڑیں اور ان مسائل کو مستقل طور پر حل کر لیں ۔ ورنہ یہ ایک ایسی تلوار کے طور پر ان کے سروں پر لٹکتے رہیں گے جو ایسی تار سے لٹکی ہوئی ہوگی جس کا ایک کنارہ مغربی طاقتوں کی انگلیوں میں پکڑا ہوا ہے یا الجھا ہوا ہے کہ جب چاہیں اس کو گرا کر سروں کو زخمی کریں ، جب چاہیں اتار کر سر سے لے کر دل تک چیرتے چلے جائیں۔ ان مسائل کے استعمال کا یہ خوفناک احتمال ہمیشہ ان کے سر پر لٹکا رہے گا یہی حال دیگر دنیا کے مسائل کا ہے مغربی طاقتیں ہمیشہ بعض موجود مسائل کو جب چاہیں چھیڑتی ہیں اور استعمال کرتی ہیں اور اس طرح تیسری دنیا کی قو میں ایک دوسرے سے لڑ کر ایک دوسرے کو ہلاک کرنے کا موجب بنتی ہیں۔ ایک اور اہم مشورہ ان کے لئے یہ ہے کہ بظاہر یہ کہا جا رہا ہے کہ امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ اردن کا مغربی کنارہ خالی کر دے لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ سب قصہ ہے۔ ایک ڈرامہ کھیلا جا رہا ہے۔ اگر امریکہ اس بات میں مخلص ہوتا کہ اسرائیل اردن کا مغربی کنارہ خالی کر دے تو صدام پہلے کی دن کی پیش کش قبول کر لیتا کہ ان دونوں مسائل کو ایک دوسرے سے باندھ لو میں کو یت خالی کرتا ہوں تم اسرائیل سے ان کے مقبوضہ علاقے خالی کرالو۔ خون کا ایک قطرہ بہے بغیر یہ سارے مسائل حل ہو جانے تھے ۔ پھر اس تیزی سے اسرائیل وہاں آبادیاں کر رہا ہے اور جو رو پید اسرائیل کو اس وقت مغربی طاقتوں کی طرف سے دیا گیا ہے اس روپے کا اکثر استعمال اردن کے مغربی کنارے میں روس کے یہودی مہاجرین کو آباد کرانا ہے۔ اس لئے عقلاً کوئی وجہ سمجھ ہی نہیں آتی کہ ایسا واقعہ ہو جائے کہ امریکہ اس دباؤ میں سنجیدہ ہو اور اسرائیل اس بات کو مان جائے ۔ ایک خطرہ ہے کہ اس کو ایک طرف رکھ کر شام کو مجبور کیا جائے کہ مصر کی طرح تم باہمی دو طرفہ سمجھوتے کے ذریعے اسرائیل سے صلح کر لو۔ اگر یہ ہوا تو فلسطینیوں کا عربوں میں نگہداشت کرنے والا اور ان کے سر پر ہاتھ رکھنے والا سوائے عراق اور اردن کے کوئی نہیں رہے گا ۔ عراق کا جو حال ہو چکا ہے وہ آپ دیکھ رہے ہیں ۔ اردن میں یہ طاقت ہی نہیں ہے بلکہ یہ ہو سکتا ہے کہ اسرائیل اردن سے ایسی چھیڑ چھاڑ جاری رکھے کہ اس کو بہانہ مل جائے کہ اردن نے چونکہ ہمارے خلاف جارحیت کا نمونہ دکھایا ہے یا ہمارے دشمنوں کی حمایت کی ہے اس