خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 196
خطبات طاہر جلد ۱۰ 196 خطبہ جمعہ ۱۸ مارچ ۱۹۹۱ء دائرے میں میں ایران کو بھی شامل کرتا ہوں۔کیونکہ تین ایسے مسائل ہیں جو کہ اگر فوری طور پر حل نہ کئے گئے تو عربوں کو فلسطین کے مسئلے میں کبھی اتفاق نصیب نہیں ہو سکے گا۔ایران کی عربوں کے ساتھ ایک تاریخی رقابت چلی آرہی ہے جس کے نتیجے میں سعودی عرب اور کویت عراق کی مد پر مجبور ہو گئے تھے اور باوجود اس کے کہ اندرونی طور پر اختلافات تھے لیکن وہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتے کہ ایران ان کے قریب آکر بیٹھ جائے۔دوسرا شیعہ سنی اختلاف کا مسئلہ ہے اور اس مسئلے میں بھی سعودی عرب حد سے زیادہ الرجک ہے۔وہ شیعہ فروغ کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔تیسرا مسئلہ کردوں کا مسئلہ ہے۔جہاں تک دشمن کی حکمت عملی کا تعلق ہے اسرائیل سب سے زیادہ اس بات کا خواہشمند ہے کہ یہ تینوں مسائل بھڑک اٹھیں۔چنانچہ جنگ ابھی دم تو ڑ رہی تھی کہ وہاں عراق کے جنوب میں شیعہ بغاوت کروا دی گئی اور شیعہ بغاوت کے نتیجے میں ایران عرب، رقابت کا مسئلہ خود بخود جاگ جانا تھا۔چنانچہ شیعہ علماء نے ایران کی طرف رجوع کیا اور ان سے مدد چاہی۔غالباً سعودی عرب نے اس موقع پر بہت شدید دباؤ ڈالا ہے ( کوئی خبر تو باہر نہیں نکلی لیکن منطقی نتیجہ یہ نکلتا ہے ) اور امریکہ کو اس یہودی سازش کا آلہ کار بننے سے روک دیا ہے۔ورنہ یہ معاملہ یہاں رکنے والا نہیں تھا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ایران نے عقل سے کام لیا ہو ورنہ اسی علاقے میں اگلی خوفناک جنگوں کی بنیاد ڈال دی جاتی۔کر دوں کو بھی اسی وقت انگیخت کیا گیا ہے۔کردوں کا مسئلہ اس لئے آگے نہیں بڑھا کہ مغربی قو میں بظاہر انصاف کے نام پر بات کرتی ہیں لیکن فی الحقیقت محض اپنے ذاتی مقاصد دیکھتی ہیں۔اس موقعہ پر کر دوں کا مسئلہ چھیڑنا ان کے مفاد میں نہیں تھا۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کر دمسئلے کا تعلق صرف عراق سے نہیں ہے۔کرد مسئلے کا تعلق چار قوموں سے ہے۔ایرانیوں سے، ترکوں سے اور روسیوں سے۔پس اگر انصاف کے نام پر عراق کے خلاف کردوں کو ابھارتے اور ان کی مدد کرتے تو لازما تر کی کے خلاف بھی ابھارنا پڑتا تھا ورنہ ان کا انصاف کا بھرم ٹوٹ جاتا اور یہ دعویٰ جھوٹا ثابت ہو جا تا اور کر دوں کو انگیخت کرنے کے نتیجے میں ویسے بھی تمام کردوں کے اندر آزادی کی نئی رو چلتی اور مسائل صرف عراق کے لئے پیدا نہیں ہونے تھے بلکہ ایران کے لئے ، ترکی کے لئے اور روس کے لئے بھی پیدا ہونے تھے پس اس وقت خدا کی تقدیر نے وقتی طور پر ان مسائل کو ٹال دیا۔لیکن نہایت