خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 195
خطبات طاہر جلد ۱۰ 195 خطبہ جمعہ ۸ / مارچ ۱۹۹۱ء کمزور اور غریب ملک پر حملہ کیا اور ساڑھے آٹھ سال تک ان پر مظالم برساتے رہے۔ایسے ایسے خوفناک بم برسائے گئے کہ دیہات کے دیہات، علاقوں کے علاقے بنجر ہو گئے۔پس ویٹنام کی یاد کو وہ کبھی بھلا نہیں سکتے۔کیونکہ کبھی دنیا ان کو بھلانے نہیں دے گی۔اور اب اس پر عراق کے ظلم و ستم کا اضافہ ہو چکا ہے۔Mr۔Tom King جو برٹش گورنمنٹ کے سیکرٹری آف ڈیفنس ہیں انہوں نے پارلیمنٹ میں اس بربادی کا خلاصہ ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ ہم نے اس مختصر عرصے میں عراق کے 3000 قصبات کو خاک میں ملا دیا ہے۔اب آپ اندازہ کریں کہ جہاں یہ دعوے کئے جاتے تھے کہ عراق کے مظلوموں کو ہم ایک ظالم اور سفاک کے چنگل سے نکالنے کی خاطر یہ جنگ کر رہے ہیں ، وہاں 3000 عراقی قصبوں اور شہروں کو تہ خاک کر دیا ہے اور جو باقی تفصیلات ہیں ان کے ذکر کی یہاں ضرورت نہیں کہ کتنے ان کے سپاہی مارے گئے یا دوسری قسم کے کتنے ہتھیاروں کا نقصان ہوا۔لیکن اس تھوڑے سے عرصہ میں تین ہزار شہروں کا مٹی میں مل جانا یہ ایک ایسا واقعہ ہے کہ تاریخ میں کبھی اس تھوڑے سے عرصے میں کسی قوم پر اتنی آفات نہیں توڑی گئیں جتنی عراق پر ان ظالموں نے توڑی ہیں اور اس کے باوجود فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں۔حیرت ہے، ذلت اور رسوائی کی حد ہے، یہ ایسی ہی بات ہے جیسے امریکن بچے کی لڑائی جاپان کے انوکی سے کرا دی جائے اور وہ اس کو مار مار کے ہلاک کر دے اور پھر نعرے لگائے کہ دیکھو جاپان کو امریکہ پر فتح حاصل ہوگئی۔30 قومیں اکٹھی ہوئیں۔دنیا کی تمام طاقتوں نے مل کر عراق کے خلاف ایکا کیا ہو اور ہر قسم کے جدید ہتھیاروں میں ہر میدان میں سبقت تھی، ہر میدان میں بالا دستی تھی اور جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا تھا ان کے ہاتھ پاؤں کاٹ کر ، دانت نکال کر، پنجے کاٹ کر کہنا چاہئے جس طرح جانور کے پنجے کاٹے جاتے ہیں، پھر ان کو مارا گیا ہے۔اس پر اب فخر کیا جارہا ہے کہ کتنی عبرتناک شکست دی ہے۔بہر حال یہ باتیں تو ماضی کا حصہ بن چکی ہیں۔اس کے مستقبل میں جو نہایت خوفناک نتائج نکلنے والے ہیں ان سے متعلق جیسا کہ میں مشورہ دے رہا تھا، میں چند اور مشورے عربوں کو بھی دوسرے مسلمانوں کو بھی اور تمام دنیا کی خصوصاً تیسری دنیا کی قوموں کو بھی دینا چاہتا ہوں۔عربوں کو فوری طور پر اپنے اندرونی مسائل حل کرنے چاہئیں اور اس اندرونی مسائل کے