خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 15 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 15

خطبات طاہر جلد ۱۰ 15 خطبہ جمعہ ۴ جنوری ۱۹۹۱ء رپورٹیں اب تک 52 میں سے صرف 26 کی ملی ہیں اور باقی جور پورٹیں ہیں وہ ہم نے گزشتہ سال کے اعداد و شمار کو شامل کر لیا ہے۔اس پہلو سے جو اعداد و شمار بنیں گے ان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بہتری تو ہوسکتی ہے کمی نہیں آئے گی یعنی 26 ممالک کے اعداد و شمار من وعن وہی ہیں جو واقعہ ہیں اور باقی کے متعلق اندازہ ہے کہ پچھلے سال جیسی بھی قربانی اگر وہ کریں تو اتنی وصولی ان کی طرف سے ہو جانی چاہئے۔اس تمہید اور تعارف کے بعد اب میں اعدادو شمار پھر دوبارہ پڑھتا ہوں سال گزشتہ ، کل وعدے 63552 پونڈ کے تھے اور کل وصولی 69012 پونڈ کی تھی۔سال ۹۰ء میں خدا کے فضل سے وعدوں میں بھی ترقی ہوئی اور 86867 کے وعدے ہوئے اور وصولی میں بھی ترقی ہوئی اور 87255 کی وصولی ہوئی۔جہاں تک شامل ہونے والوں کا تعلق ہے گزشتہ سال یہ تعداد 23227 تھی یعنی پاکستان سے باہر کے سارے دنیا کے ممالک میں 23227 ایسے خوش نصیب تھے جنہوں نے وقف جدید کی تحریک میں حصہ لیا۔امسال 29721 ہیں یعنی کسی قدر اضافہ ہے۔پچھلے سال بچگان کی تعداد صرف 6 ممالک سے موصول ہوئی تھی حالانکہ بچوں کے متعلق تو شروع سے ہی یہ وقف جدید بہت زور دے رہی ہے اور حضرت مصلح موعود نے اس طرف بہت توجہ دلائی کہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو اس میں شامل کرنا چاہئے۔چنانچہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث تو خلافت کے اپنے تمام عرصے میں وقف جدید کی تحریک سے متعلق بڑوں کے چندوں کے مقابل پر بچوں کے چندوں میں زیادہ دلچسپی لیا کرتے تھے اور جب میں اعداد وشمار پیش کیا کرتا تھا تو پوچھا کرتے تھے کہ بچوں میں بتاؤ کتنا اضافہ ہوا۔اس میں ایک حکمت دی تھی اور بہت بڑی حکمت ہے کہ چندے سے زیادہ ہمیں اگلی نسلوں کے اخلاص میں دلچسپی ہونی چاہئے اگر ہم بچوں کو شروع ہی سے خدا کی راہ میں مالی قربانی کا مزا ڈال دیں اور اس کا چسکا ان کو پڑ جائے تو آئندہ ساری زندگی یہ بات ان کی تربیت کے دوسرے معاملات پر بھی اثر انداز رہے گی اور جس کو مالی قربانی کی عادت ہو وہ خدا کے فضل سے عبادتوں میں بھی بہتر ہو جاتا ہے۔جماعت سے عمومی تعلق میں بھی اچھا ہو جاتا ہے اور یہ اس کی روحانی زندگی کی ضمانت کا بہت ہی اہم ذریعہ ہے تو حضرت خلیفہ اسیح الثالث " مجھے ہمیشہ بچوں کے متعلق زیادہ تاکید کیا کرتے تھے اور سوال بھی یہی ہوا کرتا تھا کہ بتاؤ بچوں میں کتنوں نے حصہ لیا ہے۔بعض دفعہ ہم اپنی ضرورت پوری کرنے کے لئے بعض دوستوں سے بڑے بڑے وعدے لے لیا کرتے تھے تو حضرت خلیفہ