خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 185
خطبات طاہر جلد ۱۰ 185 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ہے کہ تمہارے خون کا آخری قطرہ چوس جائیں انہی سے مخاطب ہو کے کہتے ہو کہ ہم نہتے ہیں۔ہمیں ہتھیار تو دو کہ تمہاری گردنیں اڑائیں۔اس سے بڑی جہالت اور کیا ہوسکتی ہے۔پس اب ایک قوم کی قوم نے اپنے مفادات کی خود کشی کا فیصلہ کر لیا ہو تو کون ہے جو ان کی مدد کو آئے گا اور کیسے کوئی ان کی مدد کر سکے گا۔ایسی قوموں کی تو پھر خدا بھی مدد نہیں کرتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (الرعد:۱۲) ہرگز خدا تعالی کسی قوم کی امداد کا فیصلہ نہیں کرتا۔کسی قوم کی امداد کو نہیں آتا۔اس کے اندر تبدیلیاں پیدا نہیں کرتا جتنى يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِم اس کے دونوں معنی ہیں یعنی یہاں تک کہ وہ اپنے آپ کو تبدیل کر لیں۔ایک اور آیت میں اس کا یہ مفہوم بیان کیا گیا ہے کہ وہ تو میں جو اپنی نعمتوں کو خود اپنے ہاتھ سے ضائع نہ کرلیں، ضائع کرنے کا فیصلہ نہ کریں اللہ تعالیٰ ان کی نعمتوں کو تبدیل نہیں کیا کرتا۔اس آیت کو کھلا چھوڑا گیا ہے جس کا مطلب ہے دونوں معانی ہو سکتے ہیں کہ وہ قو میں جو اپنی نعمتوں کو تبدیل کرنے میں جو خدا نے ان کو عطا کی تھیں پہل نہ کریں اللہ تعالیٰ بھی ان کی نعمتوں کی حفاظت فرمائے گا اور دوسرا اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تو میں جو خود اپنی تقدیر بنانے میں کوشش نہ کریں اور اپنے حالات کو تبدیل کرنے کی کوشش نہ کریں اللہ تعالیٰ کبھی ان کو تبدیل نہیں کرے گا۔پس عالم اسلام کو میرا مشورہ یہی ہے کہ پہلے اسلام کی طرف لوٹو اور اسلام کے دائمی اور عالمی اصولوں کی طرف لوٹو ، پھر تم دیکھو گے کہ خدا کی برکتیں کس طرح تم پر ہر طرف سے نازل ہوتی ہیں۔دوسرا اہم مشورہ یہ ہے کہ علوم وفنون کی طرف توجہ کرو۔نعرہ بازیوں میں کتنی صدیاں تم نے گزار دیں۔تم نعرے لگا کر اور شعر و شاعری کی دنیا میں ممولوں کو شہبازوں سے لڑاتے رہے اور ہمیشہ شہباز تم پر جھپٹتے رہے اور کچھ بھی اپنا نہ بنا سکے۔دوسری قومیں علوم وفنون میں ترقی کرتی رہیں اور سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں تم پر ہر پہلو سے فتح یاب ہوتی رہیں اور تم پر ہر پہلو سے فضیلت لے جاتی رہیں۔اب ان سے مقابلے کی سوچ رہے ہو اور وہ آزمودہ ہتھیار جوان کے ہاتھ میں تمہارے خلاف کارگر رہے ہیں ان کو اپنانے کی کوئی کوشش نہیں۔پس بہت ہی بڑی اہمیت کی بات یہ ہے کہ علوم وفنون کی طرف توجہ دو اور مسلمان طالب علموں کے جذبات سے کھیل کر ، ان کو گلیوں میں لڑا کر گالیاں دلوا کر ان کی اخلاقی تباہی کے سامان نہ کرو اور ان کی علمی تباہی کے سامان نہ کرو اور پھر