خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 184
خطبات طاہر جلد ۱۰ 184 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء نہیں۔قرآن کریم نے تو یہ تعلیم دی تھی وَاَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِنْ رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُقَ اللهِ وَعَدُوَّكُمْ وَأَخَرِيْنَ مِنْ دُونِهِمْ دج لَا تَعْلَمُونَهُمْ اللَّهُ يَعْلَمُهُمْ (۱) نال (۶۱) کہاے مسلمانوں اپنی خود حفاظتی کے لئے تیار رہو اور خوب تیاری کرو ہر ایسے دشمن کے خلاف جو تم پر کسی وقت بھی حملہ آور ہو سکتا ہے۔ہر قسم کے میدان میں اپنے سواروں کے ذریعے اور پیدلوں کے ذریعے ان سے مقابلے کے لئے ایسے تیار ہو جاؤ کہ ان پر دور دور تک تمہارا رعب پڑ جائے اور کسی کو جرات نہ ہو کہ ایسی تیار قوم پر حملے کا تصور کر سکے۔وہ صرف تمہارے ہی دشمن نہیں بلکہ پہلے اللہ کے دشمن ہیں۔عَدُوقَ اللهِ وَعَدُوَّكُم پس تم تو اپنے دشمنوں سے غافل رہ سکتے ہو۔لیکن خدا اپنے دشمنوں سے غافل نہیں رہا کرتا لَا تَعْلَمُونَهُمْ اللهُ يَعْلَمُهُمْ ایسے حال میں بھی کہ جب تم ان سے بے خبر ہو گے خدا ان کو جانتا ہوگا۔پس اگر تم تیاری کا حکم تسلیم کر لو اور دل و جان سے اس پر عمل کرو تو خدا تمہیں خوشخبری دیتا ہے کہ تمہاری غفلت کی حالت میں بھی پردہ پوشی سے کام لے گا اور تمہیں دشمن کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔یہ ہیں اسلامی جہاد کو تسلیم کرنے کے بعد اس پر عمل کا فیصلہ کرنے کے بعد مسلمانوں کی ذمہ داریاں جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہیں ان پر کہاں عمل ہورہا ہے۔حالت یہ ہے کہ جتنے مسلمان ممالک ہیں یہ اسلحہ سازی میں ہر اس ملک کے محتاج ہیں جن کے خلاف مسلمان جہاد کا اعلان کرتے ہیں۔جن مغربی یا مشرقی قوموں کو مشرک اور خدا سے دور اور خدا کے دشمن اور بت پرست اور ظالم اور سفاک بنا کر پیش کیا جاتا ہے اور یہ حکم سنایا جاتا ہے کہ ان سے لڑنے کا تمہیں حکم دیا گیا ہے راکٹ مانگنے کے لئے بھی ان کی طرف ہاتھ بڑھائے جاتے ہیں اور سمندری اور ہوائی جنگی جہاز مانگنے کے لئے بھی ان کی طرف دیکھا جاتا ہے، تو ہیں بھی ان سے مانگی جاتی ہیں۔ہر قسم کے راکٹ اور دوسرا اسلحہ بھی ان سے طلب کیا جاتا ہے۔سادگی کی حد ہے۔کہتے ہیں اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں لیکن یہ سادگی پھر بھی قرین قیاس ہے۔سمجھ میں آجاتی ہے، بھولا پن ہے مگر تمہاری سادگی جہالت کی انتہا ہے کہ جن کو دشمن قرار دیتے ہو، جن کو للکارتے ہو اور کہتے ہو کہ ہمارے مذہب کی تلقین