خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 183 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 183

خطبات طاہر جلد ۱۰ 183 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء جانتے بوجھتے ہوئے کہ اسلام کا نظام عدل اس قسم کی لڑائیوں کی تلقین نہیں کرتا جس قسم کی لڑائیوں کو ملاں جہاد قرار دیتا ہے۔جب بھی کوئی ملکی خطرہ درپیش ہو اور سیاسی جنگ سامنے ہو تو خودملاں سے کہکر اور اس کے ہم آواز ہو کر عوام کو جہاد کے نام پر بلانے لگتے ہیں جس کے نتیجے میں دنیا ان قوموں سے مزید متنفر ہو جاتی ہے اور دل میں یقین کر لیتی ہے کہ ان کے سیاست دان ظاہری طور پر تو یہی کہتے ہیں کہ اسلام کے جہاد کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ تلوار کے زور سے نظریات کو پھیلا دیا ہر لڑائی میں خدا کا نام استعمال کرو مگر جب ضرورت پڑتی ہے تو ہمیشہ اسی تصور کا سہارا لیتے ہیں بار بار ہر جگہ ایسے ہوتا ہے اور ہوتا چلا آیا ہے۔میں نے جہاں تک اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا ہے آنحضرت مہ کے مقدس دور کے بعد اگر مسلمان ملکوں کی لڑائیوں پر نظر ڈالیں تو آپ حیران ہوں گے کہ تمام لڑائیاں جہاد مقدس تھیں۔ایک بھی لڑائی مسلمانوں نے نہیں لڑی خواہ وہ غیروں کے ساتھ لڑی ہو یا اپنوں کے ساتھ لڑی ہو۔خواہ وہ سنی سنی کے درمیان ہو یا شیعہ شیعہ کے درمیان ہو یا شیعہ سنی کے درمیان ہو جو اس وقت کے علماء اور ان کے سیاستدانوں کے نظریوں کے مطابق جہاد مقدس نہ ہو۔عجیب بات ہے کہ مسلمانوں کو جہاد کے سوا کوئی لڑائی پیش نہیں آتی۔ساری دنیا کی قو میں سیاسی لڑائیاں لڑتی ہیں۔ان کو ہر قسم کی لڑائیوں کے سامنے کرنے پڑتے ہیں اور مسلمانوں کے لئے صرف جہاد ہی رہ گیا ہے اور اس جہاد کی تاریخ میں بھاری حصہ مسلمانوں کا آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے کا ہے اور ایک دوسرے کو جہاد کے نام پر قتل و غارت کیا گیا ہے۔پس یہ تمسخر تو المیہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔ایک دردناک المیہ کی شکل اختیار کر گیا ہے۔اب اس المیہ کوختم ہونا چاہئے دنیا کی نظر سے دیکھیں تو اس زمانے کا سب سے بڑا تمسخریہ نظریہ ہے جو میں آپ کے سامنے پیش کر رہا ہوں جسے اسلام کی طرف منسوب کیا جا رہا ہے اور اگر اندرونی مسلمان کے دل کی نظر سے دیکھیں تو ایک انتہائی دردناک اور ہولناک المیہ ہے جو 1300 سال سے ہمارا پیچھا نہیں چھوڑ رہا۔اس لئے اگر اپنی تقدیر بدلنا چاہتے ہیں تو اپنے خیالات اور اپنے رجحانات اور اپنے اعمال میں پاک تبدیلیاں پیدا کریں۔جب تک مسلمانوں کی سوچ میں انقلاب برپا نہیں ہوتا اس وقت تک وہ دنیا میں کوئی انقلاب برپا کرنے کے اہل نہیں ہو سکتے اور پھر ظلم پر ظلم یہ کہ اس جہاد کے نظریے پر یقین رکھتے ہوئے جہاد کی تیاری کوئی