خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 182 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 182

خطبات طاہر جلد ۱۰ 182 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء کبھی نہیں اٹھ سکو گے اس لئے اٹھو اور یہ فیصلے کرو اور خدا کو حاضر ناظر جان کر یہ فیصلے کرو کہ حق کے لئے حق نام کی تلوار اٹھاؤ گے اور وہ نظریاتی جہاد شروع کرو گے جس کی قرآن کریم نہ صرف اجازت دیتا ہے بلکہ تم پر اس جہاد کو واجب کر رہا ہے۔یہی وہ خطرات ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے ، جن کی وجہ سے کسی اسلامی ملک میں حقیقی جمہوریت آہی نہیں سکتی۔اگر جمہور کی بات کریں تو جمہور کی تعلیم و تربیت کا کوئی مؤثر انتظام نہیں ہے۔نہ سیاسی سوچ میں ان کو شامل کیا جاتا ہے ، نہ مذہبی سوچ میں ان کو شامل کیا جاتا ہے بلکہ حکمران طبقہ ان کے نام پر ووٹ لے کر ، ابھر کر ایک نیا تشخص حاصل کر لیتا ہے۔پس ایسے ملک جہاں حکمران طبقے اور عوام الناس میں سوچ اور مذہبی خیالات کی ہم آہنگی نہ ہو وہاں اگر جمہوریت آ بھی جائے تو وہ آمر پیدا کر سکتی ہے جمہوری حکمران پیدا نہیں کر سکتی اور دنیا میں بسا اوقات ایسے ہوتا ہے کہ جمہوری عمل کے ذریعے آمر پیدا ہوتے ہیں اور اس سے زیادہ خطرہ یہ ہے کہ چونکہ مسلمان حکمرانوں کو ہمیشہ یہ خطرہ دامن گیر رہتا ہے کہ ملائیت ہمارے عوام کو کہیں اس حد تک اسلام کے نام سے ہمارے خلاف نہ کر دے کہ ہمارے خلاف کسی قسم کا انقلاب بر پا ہو جائے۔اس خطرے کے پیش نظر وہ ضرور آمر بننا شروع ہو جاتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ جبر کو اختیار کرنے لگتے ہیں اور چونکہ جن پر ظلم کیا جاتا ہے وہ عوام کی نظر میں اسلام کے بچے ہمدرد ہوتے ہیں اس لئے دن بدن علماء کے حق میں اور سیاستدانوں کے خلاف نفرت کے جذبات بڑھتے چلے جاتے ہیں۔پس یہ ایک مسئلہ نہیں۔اس مسئلے کی کئی شاخیں ہیں اور ان سب مسائل کا ایک ہی علاج ہے جو میں نے بیان کیا ہے کہ قرآن کے عدل کے نظام کو اس طرح مضبوطی سے پکڑ لیں جیسے عروہ وثقی“ پر ہاتھ ڈال دیا جاتا ہے جس کے لئے پھر ٹوٹنا مقدر نہ ہو۔یہی وہ خدا کی رسی ہے، عدل کی رسی جسے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اقوام عالم میں امن پیدا کرنے کے لئے لٹکایا تھا۔اس رسی کا دامن چھوڑ کر آپ کو دنیا میں کہیں امن نصیب نہیں ہو سکتا پس مضبوطی سے اس کڑے پر ہاتھ ڈالیں اور تمام دنیا کو بھی جو امن کی متلاشی ہے اسی کڑے پر ہاتھ ڈالنے کے لئے دعوتیں دیں۔پھر ایک اور عجیب بات یہ ہے کہ جہاد کے دعاوی بھی کئے جاتے ہیں اور اعلان بھی کئے جاتے ہیں اور ساتھ ہی ملاں کے ان تین اصولوں کو تسلیم بھی کیا جاتا۔یہ سیاستدان کا دوسرا جرم ہے