خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 181
خطبات طاہر جلد ۱۰ 181 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء ضرورت نہیں ہے۔بار بار علماء کو چیلنج کریں کہ آؤ اور اس میدان میں ہم سے مقابلہ کر وہم اعلان کرتے ہیں کہ قرآن کریم کا نظام عدل واضح اور بین اور غیر مبہم ہے اور عالمی ہے قومی نہیں ہے۔اگر عالمی نہ ہو تو نظام عدل کہلا ہی نہیں سکتا۔بین الاقوامی ہے۔Absolute ہے پہلے اس بات پر بحث کرو کہ یہ ہے کہ نہیں اور اگر ہے تو تمہیں ماننا پڑے گا کہ قرآن کریم کے نظام عدل سے ٹکر انے والا ہر نظریہ غیر اسلامی ہے۔دوسرے اس اعلان کی ضرورت ہے کہ ہر وہ شخص جو قرآن کریم کی طرف غیر عادلانہ نظریہ منسوب کرے گا وہ کلام الہی کی گستاخی کا مرتکب شمار ہوگا اور ساتھ ہی یہ اعلان کیا جائے کہ ہر وہ شخص جو حدیث رسول کی طرف قرآن کریم کے خلاف نظریات منسوب کرنے کی کوشش کرے، وہ کلام رسول کی گستاخی کا مرتکب شمار کیا جائے گا۔یہ ایک ہی لائحہ عمل ہے جو عالم اسلام کے اندرونی تضادات کو دور کر سکتا ہے۔اگر آج کسی سیاستدان کے دماغ میں روشنی ہے اور وہ تقویٰ رکھتا ہے اور انصاف کا دامن پکڑے ہوئے ہے۔اگر آج اس میں یہ جرات ہے کہ حق بات کر سکے اور حق طریق پر کر سکے، اگر آج وہ اپنی قوم اور عالم اسلام سے محبت رکھتا ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اس میدان میں اسلام کے حق میں جہاد کا آغاز کرے ورنہ یہ میدان نہ جیتا گیا تو کوئی اور میدان نہیں جیتا جائے گا۔اگر چہ ایک گونہ منافقت کے ذریعے مسائل ٹل رہے ہیں لیکن بلا ہمیشہ کے لئے سر سے اتر نہیں گئی۔عالم اسلام میں ہم یہ واقعہ بار بار ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ جب بھی عالم اسلام کو کہیں سے کوئی خطرہ درپیش ہو و ہیں ملائیت کو فروغ ملنے لگتا ہے اور ملائیت دماغوں میں زیادہ سے زیادہ نفوذ کرنے لگتی ہے اور اس وقت ایک انتہا پسند انقلاب کے خطرات سر پر منڈلانے لگتے ہیں اور یہ سلسلہ جاری ہے اور بڑھتا چلا جا رہا ہے۔اگر حکمت کے ساتھ بر وقت اس کا انسداد نہ کیا گیا اور عوام کی سوچ میں اور سیاست کی سوچ میں مذہبی اور سیاسی نقطہ نگاہ سے یک جہتی پیدا نہ کی گئی تو اسلامی ممالک ہمیشہ کمزورر ہیں گے اور ہمیشہ اندرونی خطرات کی وجہ سے یہ زلزلوں میں مبتلا رہیں گے اور کبھی ان کو استحکام نصیب نہیں ہو سکتا۔اس لئے دوٹوک فیصلوں کی ضرورت ہے اور آج ان فیصلوں کی ضرورت ہے کیونکہ وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے اور ہم سے مزید رحم کا سلوک نہیں کرے گا۔رحم کا سلوک کتنی دفعہ ہمیں سزا دے چکا ہے۔کتنی دفعہ ہمیں دنیا میں ذلیل اور رسوا کر چکا ہے اگر آج نہیں اٹھو گے تو پھر