خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 171
خطبات طاہر جلد ۱۰ 171 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء لحاظ سے بھی دماغ عجیب عجیب کرشمے دکھاتا ہے۔ایک ہی آواز کے مختلف معنی لئے جاتے ہیں۔ایک آواز دنیا یہ سن رہی ہے کہ عراق کے جوڑ جوڑ توڑنے کا ارادہ اس لئے ہے کہ کبھی بھی عراق آئندہ کو یت پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرے۔گویا سارا مقصود کائنات کو یت ہے اور ہر دوسرے ملک پر ہر دوسرے ملک کو حملے کرنے کی کھلی چھٹی ہے لیکن کویت پر کسی کو حملہ کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔پس کو بیت کویت کی آوازوں کا ایک یہ مطلب ہے جو دنیا کو سنائی دے رہا ہے اگر اسی آواز کو اسرائیل کے کانوں سے سنا جائے تو وہاں یہ آواز سنائی دے گی کہ عراق کے اسی لئے ٹکڑے ٹکڑے کئے جار ہے ہیں اور اس لئے اسکا جوڑ جوڑ تو ڑا جارہا ہے کہ یہ کبھی اسرائیل پر حملہ کرنے کا خواب بھی نہ دیکھ سکے اور صرف یہی نہیں بلکہ دنیا میں کوئی ملک بھی کبھی اسرائیل کو ٹیڑھی نظر سے دیکھنے کی جرات نہ کرے۔تو دیکھئے آواز وہی ہے لیکن مختلف کانوں میں مختلف شکلوں پر پڑ رہی ہے اور مختلف دماغ اس کی مختلف تعبیریں کر رہے ہیں۔ایک اور پہلو یہ قابل ذکر ہے کہ شائستگی اور تہذیب اور نرمی اور پیار صرف انسانوں کا حصہ نہیں بلکہ گوشت خور جانور بھی ایک تہذیب رکھتے ہیں۔ایک نرمی اور پیار رکھتے ہیں۔جب تک وہ شکار پر نہ جھپٹیں یا جب تک کسی دشمن کا مقابلہ نہ کریں ان کے پاؤں کے تلوے گداز اور نرم ہوتے ہیں اور مخمل کی طرح ہوتے ہیں۔ان کے جبڑے نرم نرم ہونٹوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہوتے ہیں، ان کے دانت نرم نرم ہونٹوں کے پیچھے چھپے ہوئے ہوتے ہیں اور وہ آپس میں محبت اور پیار سے رہتے ہیں بلکہ دوسرے جانوروں کو بھی بری نظر سے نہیں دیکھتے لیکن وہ وقت جب شکار کا وقت آتا ہے، وہ وقت جب دشمن پر جھپٹنے کا وقت آتا ہے۔انہی نرم نرم مخملیں پاؤں سے خوفناک پنجے نمودار ہو جاتے ہیں اور انہی نرم ہونٹوں کے پیچھے سے وہ ہولناک کچلیاں نکل آتی ہیں جو کسی جانور پر رحم نہیں جانتیں۔پس اس صورتحال کا بھی جائزہ لینا چاہئے کہ وہ کون سے وقت ہوتے ہیں جب انسان پہچانے جاتے ہیں۔ایک اردو شاعر نے بہت اچھی بات کہی جب یہ کہا کہ اک ذراسی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے مگر مغربی دنیا کے عرب دوستوں کے متعلق حسرت سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ ذراسی بات تو