خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 172
خطبات طاہر جلد ۱۰ 172 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء در کنار۔عالم اسلام پر قیامت بھی ٹوٹ پڑے تو ان کے برسوں کے یارانے نہیں جاتے اور ان سے دوست پہچانے نہیں جاتے۔یہ ہے خلاصہ اس پس منظر کا جس کی روشنی میں میں آپ کے سامنے کچھ دوسرے امور رکھنا چاہتا ہوں جن کا زیادہ تر تعلق مختلف قوموں کو مشورے دینے سے ہے۔قدیم سے لا مذہب سیاست کے تین اصول رہے ہیں جو مشرق اور مغرب میں برابر ہیں ، مشترک ہیں۔یہ نہیں کہہ سکتے یہ مغربی سیاست کے اصول ہیں یا مشرقی سیاست کے اصول ہیں۔کل کے ہیں یا آج کے۔ہمیشہ سے یہی اصول چلے آرہے ہیں یعنی سیاست اگر لامذہب اور بے دین ہو تو پہلا اصول یہ ہے کہ قوم، وطن یا گروہ کا مفاد جب بھی عدل کے مفاد سے ٹکرائے تو قوم، گروہ اور وطن کے مفاد کو عدل کے مفاد پر لاز ما ترجیح دو اور فوقیت دو۔خواہ عدل کو اس کے نتیجے میں پارہ پارہ کرنا پڑے۔قرآن کریم کا اصول سیاست اس سے بالکل مختلف ہے اور برعکس ہے جو یہ ہے وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائده:9) کہ اے مسلمانو! تمہاری سیاست اور طرح کی سیاست ہے یہ الہی فرمان کے تابع سیاست ہے اور اس کا بنیادی اہل اصول یہ ہے کہ کسی قوم کی شدید دشمنی بھی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ اس سے نا انصافی کا سلوک کرو۔ہمیشہ عدل پر قائم رہو کیونکہ عدل تقویٰ کے قریب تر ہے۔دوسرا اصول سیاست یعنی بے دین سیاست کا اصول یہ ہے کہ اگر طاقت ہوتو مفادات کو طاقت کے زور سے ضرور حاصل کرو۔کیونکہ "Might is Right" طاقت ہی صداقت ہے اس کے سواد نیا میں صداقت کی اور کوئی تعریف نہیں۔قرآن کریم اس کے برعکس ایک مختلف اصول پیش فرماتا ہے جو یہ ہے لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيْنَةٍ وَيَحْيَى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةِ (الانفال: ۴۳) یعنی وہی ہلاک کیا جائے جس کی ہلاکت پر کھلی کھلی صداقت گواہ ہو اور وہی زندہ رکھا جائے جس کے حق میں کھلی کھلی صداقت گواہی دے۔پس اسلام کا اصول Might is Right کے برعکس Right is might بنتا ہے۔تیسرا اصول جو لا دینی سیاست کا بنیادی حصہ ہے وہ یہ ہے کہ مقصد کے حصول کے لئے بے