خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 170
خطبات طاہر جلد ۱۰ 170 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء پون چکی اس پر Don Duixot نے اپنی ساتھی کو بتایا کہ یہ دنیا کا سب سے زیادہ طاقتور اور خوفناک دیو ہے اور آؤ ہم دونوں مل کر اس پر حملہ کرتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے ڈپٹ کر اور للکار کر اس پر حملہ کیا اور تبدیل شدہ کہانی پھر یوں بنے گی کہ ونڈمل کو بری طرح شکست دی ،اس کے پر خچے اڑا دیئے اس کو پارہ پارہ کر کے پھر انہوں نے فخر سے یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ آج دنیا کے سب سے بڑے نائٹ نے دنیا کے سب سے بڑے دیو کو شکست فاش دے دی ہے۔پس دیکھیں حقیقت وہی رہتی ہے۔وقت بدلنے سے منظر کیسے تبدیل ہو جاتے ہیں اسی طرح زاویہ بدلنے سے بھی مناظر تبدیل ہو جاتے ہیں۔اگر امریکہ کے زاویے سے اس صورتحال کو دیکھا جائے تو یوں محسوس ہوگا جیسے شکاری اصطلاح میں Heel کرنا کہا جاتا ہے کہ کتے کو اپنی ایڑی کے پیچھے لگا لینا۔امریکہ کے زاویہ نگاہ سے یہ منظر دکھائی دے گا کہ امریکہ نے انگریزوں کو بھی Heel کرلیا اور فرانس کو بھی Heel کرلیا اور روس کو بھی Heel کر لیا غرضیکہ بہت سے اتحادیوں کو Heel کیا اور اس کے پیچھے پیچھے اور غول بیابانی بھی اکٹھا ہوا اور سب ایک شکار کی لالچ میں اس Heel کر نیوالے شکاری کے پیچھے لگ گئے کہ کب وہ شکار مارا جائے اور اپنی اپنی توفیق اور رتبے کے مطابق اس کے حصے بخرے کریں اور اس میں سے کچھ اپنے لئے حاصل کر سکیں۔یہ جولشکر روانہ ہوا ہے شکاریوں کا اور اس کے Heel ہوئے ساتھیوں کا،اس کے منہ سے کویت، کویت کویت کویت کی آوازیں آرہی ہیں اور جو پیچھے لگے ہوئے ہیں وہ اپنے دانت تیز کر رہے ہیں کہ کب ہمیں کو یت کے نام پر عراق کے شکار کا موقع ملے گا بہر حال ایک زاویہ نگاہ یہ ہے اور اگر اسرائیل کے زاویہ نگاہ سے دیکھا جائے تو اسرائیل یہ سمجھتا ہوگا اور حق بجانب ہوگا یہ سمجھنے میں کہ اس نے امریکہ اور اس کے تمام ساتھیوں کو میل کر لیا ہے اور اسرائیل کے پیچھے پیچھے وہ دیگر جنگلی مخلوقات بھی ساتھ چل رہی ہیں جن کو یہ علم نہیں کہ یہ وہ شکاری ہے جو رفتہ رفتہ پلٹ پلٹ کر ایک ایک Heel ہوئے ہوئے جانور کا شکار کرے گا اور پھر سب مل کر اس کا گوشت اڑائیں گے۔تو ایک یہ بھی زاویہ نگاہ ہے حالانکہ حقیقت وہی رہتی ہے جس طرح چاہیں اس کی تعبیر کر لیں۔یہ فیصلہ تو بہر حال آنے والا وقت کرے گا کہ کس نے کس کو Heel کیا ہے۔آوازوں کے