خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 169
خطبات طاہر جلد ۱۰ 169 خطبہ جمعہ یکم مارچ ۱۹۹۱ء خلیج کا بحران ، عراق کی تباہی پر اظہار افسوس قیام امن کے لئے عالمی اور مسلمان سیاست کو قیمتی مشورے ( خطبه جمعه فرموده یکم مارچ ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔جب خلیجی جنگوں کا آغاز ہوا تو مغربی پرو پیگنڈے کے اثر کے نیچے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ Natsi جرمنی کا زمانہ لوٹ آیا ہے اور پھر ہٹلر اور گوبلز پیدا ہو چکے ہیں اور ان کو مٹانے کے لئے چرچل اور روز ویلٹ اور سٹالن نے بھی نئے جنم لے لئے ہیں۔یہ تصویر اتنی بھیا نک تھی کہ ساری دنیا اس کو دیکھ کر لرزہ براندام تھی۔اب جبکہ جنگ ختم ہو چکی ہے تو منظر تو وہی ہے لیکن اس کی ایک اور تصویرا بھری ہے۔حالات تو وہی ہیں حقیقت میں تو تبدیلی نہیں آئی لیکن حقیقت اور طرح سے دکھائی دینے لگی ہے۔مجھے تو اس جنگ کے اختتام پر وہ مشہور سپینش طنزیہ ، مزاحیہ کردار یا د آ گیا ہے جسے Don Duixot کہتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ وہ مسخرہ ، نائٹ Knight فرضی جن بھوت اور دیو بنالیتا تھا اور بڑے بڑے نائٹس Knights اپنے تصور میں ہی پیدا کر لیا کرتا تھا اور پھر بہت ڈپٹ کر ان پر حملہ آور ہوتا تھا۔اسی قسم کی ایک کہانی اس کی ونڈمل (Windmill) سے لڑائی کی بیان کی گئی ہے۔اگر اس کہانی کو موجودہ حالات پر چسپاں کرنے کے لئے کچھ تبدیلی کی جائے تو یوں بنے گی کہ Don Duixot اپنے جرنیل سانچو پنز و کے ساتھ اپنے ٹو اور گدھے پر سوار کہیں جارہے تھے تو رستے میں ایک ونڈ مل نظر آئی