خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 166 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 166

خطبات طاہر جلد ۱۰ 166 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء اس کی کمر توڑیں گے اور ان کی کھوپڑیوں سے ویسا ہی مینار بلند کریں گے جیسے عراق کی تاریخ میں اس سے پہلے بلند ہوتے رہے ہیں۔اس کے بعد دوسرا مینار جو عراق میں بنایا گیا وہ 1258ء میں ہلاکو خان نے کھوپڑیوں سے بنایا اور پھر تیسرا مینار 1451ء میں تیمور لنگ نے بغداد میں کھڑا کیا اور وہ بھی واقعہ انسانی کھوپڑیوں سے بنایا گیا تھا۔پس یہ کیسی مظلوم سرزمین ہے جہاں ایک دفعہ نہیں ، دودفعہ نہیں ، اس سے بھی پہلے تین دفعہ انسانی لاشوں اور جلدوں اور کھوپڑیوں سے مینار تعمیر کئے گئے ہیں تا کہ کسی جابر کے سامنے دنیا کو سر تسلیم خم کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔پس آج جو کچھ عراق میں ہورہا ہے یہ انہیں باتوں کا اعادہ ہے میں نہیں جانتا کہ آئندہ کیا ہوگا۔میں نہیں جانتا کہ خدا کی تقدیر کب ان کے تکبر کا سر توڑنے کا فیصلہ کرے گی لیکن یہ میں جانتا ہوں کہ لازماً خدا کی تقدیر اس تکبر کا سر توڑے گی لیکن یہ بات میں امریکہ کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ کمر جو تمہاری ویٹنام میں تو ڑ دی گئی تھی ، عراق کے مظالم کے نتیجے میں یہ کمر اب جڑ نہیں سکتی۔بظاہر تم نے وہاں بھی کھوپڑیوں کا ایک مینار بلند کرنے کی کوشش کی تھی مگر 25 لاکھ ٹن بارود سے جتنی زمین کھودی جاسکتی ہے۔جتنے گہرے کنویں کھودے جا سکتے ہیں اتنے گہرے قعر مذلت میں ہمیشہ کے لئے تمہارا نام دفن ہو چکا۔آئندہ تاریخ میں یہ باتیں زیادہ اجاگر ہوتی چلی جائیں گی۔یہ مظالم کے داغ جو تمہارے چہرے پر لگے ہیں آج تمہارے رعب کی وجہ سے اور تمہارے ظلم و ستم کے دبدبے کے نتیجے میں یہ نمایاں کر کے دنیا کو دکھانے کے لئے کسی کے پاس طاقت ہو یا نہ ہو مگر تاریخ بالآخر وقت کے ساتھ ساتھ ان کو زیادہ نمایاں کرتی چلی جائیگی۔یہ سیاہیاں زیادہ گہری ہوتی چلی جائیں گی۔پس دوسری نظر سے بھی تو اپنے آپ کو دیکھو باہر تمہاری کیا تصویر بن رہی ہیں اور آئندہ تمہاری کیا تصویریں بننے والی ہیں اور جن مقاصد کو لیکر تم اُٹھے ہو اُن کے بالکل برعکس کارروائیاں کر رہے ہو۔امن کی بجائے ہمیشہ کے لئے دنیا کو جنگ میں جھونکنے کے فیصلے کر چکے ہو۔لیکن اگر امریکہ ان باتوں کو سمجھنے پر آمادہ نہیں جیسا کہ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے۔اس وقت اپنے تکبر کے نشے میں اتنی بلند پروازی ہے کہ اپنے ہی بنائے ہوئے فرضی ظلموں کے مینار کی چوٹیوں پر بیٹھے ہوئے دنیا کا ملاحظہ کر رہے ہیں تو پھر آئندہ کیا ہوگا اور خدا کی تقدیر ان کو کیا دکھائے گی۔اُس