خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 156 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 156

خطبات طاہر جلد ۱۰ 156 خطبه جمعه ۲۲ فروری ۱۹۹۱ء کہ یہ قابل فہم بات دکھائی نہیں دیتی۔کیوں آخر اس طرح ہوتا چلا جا رہا ہے؟ کیا مقصد ہے امریکہ کا اسرائیل کی اس طرح پر زور حمایت کرنے کا ؟ اسرائیل کے خلاف مذمت کے جوریزولیوشنر سیکیو رٹی کونسل میں پاس ہوتے رہے ان کے مطالعہ سے ایک اور دلچسپ بات میرے سامنے یہ آئی کہ ان ریزولیوشنز کے رویے میں اور عراق کے خلاف ریزولیوشنز کے رویے میں زمین آسمان کا ایک فرق ہے۔عراق کو سانس نہیں لینے دیا گیا۔موقعہ ہی نہیں دیا گیا۔ایک طرف یہ ریزولیوشن پاس ہوا کہ Sanctions ہوں۔خوراک بند ہو جائے ، دوائیاں تک بند ہو جائیں ، کوئی چیز کوئی پتا بھی داخل نہ ہو سکے اور Sanctions ابھی کچھ عرصہ جاری ہوئی تھیں تو فیصلہ کر لیا گیا کہ اب اس پر حملہ کیا جائے۔امر واقعہ یہ ہے کہ Sanctions سے بہت پہلے حملے کا منصوبہ مکمل ہو چکا تھا۔Sanctions کا مطلب یہ تھا کہ حملے سے پہلے بھوک سے مارا جائے اور ضرورت کی اشیاء کی نایابی کا عذاب دے کر مارا جائے۔یہاں تک کہ بعد میں بچوں کے دودھ پلانٹ پر بھی حملہ ہوا تو یہ اس کا مقصد تھا۔اس رویے میں اور اس رویے میں جو اسرائیل کے عدم تعاون کے بعد سیکیورٹی کونسل نے اختیار کیا زمین آسمان کا فرق ہے۔ان کے ریزولیوشنز کی زبان یہ بنتی ہے کہ دیکھو اسرائیل! ہم نے تمہیں فلاں فلاں وقت بھی کہا تھا کہ تم عرب علاقہ واپس کر دو اور تم اب تک اس میں جمے ہوئے ہو ہم اس کو نہایت ہی غصے کی نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ہم یہ بات پسند نہیں کرتے۔پھر ریزولیوشن پاس ہوتا ہے کہ اے اسرائیل ! ہم نے تمہیں کہا نہیں تھا کہ ہم برا منائیں گے اور ہم برامنا رہے ہیں۔پھر ریزولیوشن پاس ہوتا ہے کہ ہم نے پہلے بھی دو دفعہ بتایا تھا کہ ہم بہت برا منا رہے ہیں اور ہم ایسے اقدام کرنے پر مجبور ہو نگے جس سے تم پر ثابت ہو جائے کہ ہم برا منا رہے ہیں اور پھر ریزولیوشن پاس ہوتا ہے کہ جس طرح ہم نے کہا تھا ہم اب مجبور ہو گئے ہیں تمہیں یہ بتانے پر کہ ہم بہت ہی برا منارہے ہیں۔اس کے سوا کوئی ریزولیوشن پاس نہیں ہوا۔یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے ہمارے ہاں U۔P کے متعلق یہ لطیفہ ہے کہ وہاں لوگ ذرا لڑائی سے گھبراتے ہیں تو U۔P والے کو جب کوئی مارے اور مارنے والا طاقتور ہو تو وہ اس کو کہتا ہے کہ اب کے ماڑ۔اب مار کے دیکھے وہ دوبارہ مارتا ہے تو کہتا ہے ”اب کے مار پھر دبارہ مارتا ہے تو کہتا ہے ”اب کے مار“ چنانچہ یہ لطیفہ تو