خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 10
خطبات طاہر جلد ۱۰ 10 10 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء لگی تھی اور جب قوم کی یہ نفسیاتی حالت ہو جائے تو جن لوگوں پر وہ بوجھ ڈالا جاتا ہے وہ خود بھی اس نفسیاتی حالت کا پھل ہوا کرتے ہیں اور قوم سے الگ نہیں ہوا کرتے چنانچہ بوجھ تو اٹھا لیتے ہیں لیکن علم وہ بھی حاصل نہیں کرتے اور ایسے لوگ گدھوں کی طرح ہوتے ہیں۔وہ آیت جس کی طرف میں اشارہ کر رہا ہوں ہے: مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّوْريةَ ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا ) الجمع : ٢) مَثَلُ الَّذِينَ حُمِلُوا التَّورية اُن لوگوں کی مثال جن کو تو رات عطا کی گئی تھی ، تو رات کی ذمہ داریاں جن پر ڈالی گئی تھیں۔ثُمَّ لَمْ يَحْمِلُوهَا پھر وہ ذمہ داریاں ادا کر نے سے کترانے لگے اور اُن ذمہ داریوں سے پیٹھ پھر لی۔كَمَثَلِ الْحِمَارِ يَحْمِلُ اَسْفَارًا ایک ایسے گدھے کی سی مثال ہے جو کتابوں کا بوجھ اُٹھائے ہوئے ہے۔اب اس میں ایک طرف یہ ہے کہ انہوں نے بوجھ اُٹھانا چھوڑ دیا، دوسری طرف ہے کہ گدھے کی سی مثال ہے جس نے بوجھ اُٹھایا ہوا ہے تو کیا مطلب بنتا ہے۔وہی مطلب بنتا ہے جو میں پہلے تفصیل سے آپ کے سامنے رکھ چکا ہوں۔کہ قوم کو خدا تعالیٰ ذمہ داریوں کے طور پر شریعت عطا کرتا ہے، وہ بوجھ سمجھے لگتی ہے اور اس کی ذمہ داریاں ادا کرنے سے انکار کرتی ہے تو وہ بوجھ قوم کا ایک حصہ ضرور اٹھاتا ہے لیکن ایسے ہی اُٹھاتا ہے جیسے گدھے کتا بیں اُٹھانے والے ہوں۔بہر حال میں بتا رہا ہوں کہ اس زمانے میں جب وقف جدید سے منسلک ہو کر میں نے سارے پاکستان میں اور مشرقی پاکستان بھی جو اس وقت ہمارے ملک کا حصہ تھا جائزے لئے تو اس قسم کے ہولناک کوائف نظر کے سامنے آئے۔اس وقت خیال آیا کہ اگر آغاز اسلام سے ہی دیہات کی طرف نظر رکھنے کے کوئی انتظام کئے جاتے تو جس طرح بعد میں اسلام فرقوں میں بٹ گیا ہے کوئی بعید نہیں تھا کہ اس کی اس ہلاکت سے مسلمانوں کو بچایا جاسکتا۔شہروں پر عموما لوگوں کی نظر رہتی ہے اور دیہات کو گہری نظر سے نہیں دیکھتے اور دیہات میں ہی پہلے علمی لحاظ سے کمی محسوس ہوتی ہے اور دیہات میں ہی جہالت کے نتیجے میں چند علماء پر اعتماد پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے اور سمجھا یہ جاتا ہے کہ