خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 131 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 131

خطبات طاہر جلد ۱۰ 131 خطبہ جمعہ ۱۵رفروری ۱۹۹۱ء ہے ) کہ 3 بلین روس کو سعودی عرب نے دیا ہے، ایک بلین کو یت نے دیا ہے، متفرق اس کے علاوہ ہیں ،ترکی اور شام پر کچھ اخراجات انہوں نے کئے ہیں کچھ آئندہ ان کے ساتھ جنگ کے بعد وعدے ہیں جن کا ہمیں علم نہیں ہوسکا۔اس خرچ کے علاوہ جو ہولناک تباہی ہوئی ہے۔کویت اور عراق میں جائیدادوں کی تباہی اس کے متعلق بیان کیا جاتا ہے ، مبصرین نے جو جائزے لئے ہیں، پچاس بلین ڈالر صرف کو یت کو از سر نو تعمیر کرنے پر لگے گا اور یہ اندازہ آج سے پانچ ، سات دن پہلے کا ہے اور اندازہ لگانے والوں نے اندازہ لگایا ہے کہ عراق پر اس سے کم سے کم دس گنا زیادہ خرچ ہوگا اور جس کا مطلب یہ ہے کہ پانچ سو بلین ڈالر عراق کو اپنے آپ کو بحال کرنے کے لئے درکار ہوگا۔تو جنگ پر جو اخراجات ہورہے ہیں یا رشوت پر ہورہے ہیں ان کے علاوہ یہ اخراجات غیر معمولی طور پر زیادہ ہیں۔اس کے علاوہ جو جانوں کی تلفی ہوئی ہے اور کثرت کے ساتھ بنی نوع انسان کو تکلیف پہنچی ہے وہ سب اس کے سوا ہے۔تیسری دنیا کو جو اقتصادی نقصان پہنچا ہے وہ بھی سردست 200 بلین کا اندازہ لگایا گیا ہے جو مبصرین کہتے ہیں کہ آگے زیادہ ہو گا کم نہیں ہوگا یعنی اب تک 200 بلین کا نقصان تیسری دنیا کے غریب ملکوں کو ہو چکا ہے۔اب یہ جو حصہ ہے اس سلسلے میں ایک نقصان فضا میں آلودگی کا نقصان ہے اور سمندر میں آلودگی کا نقصان ہے جو سمندر میں آلودگی شروع ہوئی تو ایک امریکن جرنیل نے اعتراف کیا اور فخر سے اعتراف کیا کہ ہم نے تیل کے چشموں پر کامیابی سے Hit ہٹ کیا ہے اور تیل بہنا شروع ہو گیا ہے۔اور دوسرے دن ہی وہ ساری کہانی بدل گئی اور کثرت سے پھر بار بار عراق پر الزام لگا کر عراق کو متہم کیا گیا کہ یہ ایسی ظالم قوم ہے کہ پرندوں تک کو نہیں چھوڑا انہوں نے ظلم میں اور وہ جو Coots اور Cormorant اور کچھ اور مرغابیوں قسم کے جانور، بعض تو ایسے تھے جو بار بار وہی دکھاتے تھے تیل میں ڈوبے ہوئے اور یہ ظاہر کرتے تھے کہ اس سے ان لوگوں کی صدام حسین کی سفا کی ثابت ہوتی ہے کہ کس طرح انہوں نے چھوٹے چھوٹے جانوروں تک کو بھی اپنے ظلم سے الگ نہیں رہنے دیا، باہر نہیں رکھا۔اس نقصان کے مقابل پر جس سے یہ اپنی انسانی ہمدردی اور زندگی سے ہمدردی ثابت کرتے ہیں دنیا پر ان کا دنیا کی تکلیفوں سے متعلق جو رویہ ہے وہ میں آپ پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں