خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 128 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 128

خطبات طاہر جلد ۱۰ 128 خطبه جمعه ۱۵ فروری ۱۹۹۱ء population upon an Arab country-Arab all around in the hinterland-may never be remedied۔۔۔what we have done is, by concessions, not to the Jewish people but to a Zionist extreme section, to start a running sore in the East,and no one can tell how far that sore will extend۔" (The orisins of Evolution of The pales time problem (1917-1988 Page:29) pub۔by:United wasons, New york, 1990) وو کہتے ہیں کہ ہرگز ایسا نہ کرو ہمیں کوئی حق نہیں ہے کہ اجنبی لوگوں کو عربوں کے دل میں مسلط کر دیں ، ایسے علاقے میں جہاں اردگرد چاروں طرف عرب آبادیاں ہی ہیں اور اگر ایسا تم کرو گے تو عملاً وہاں ایک ایسا ناسور پیدا کر دو گے جس ناسور کی جڑوں کے متعلق ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کہاں کہاں پھیلیں گی اور کتنی کتنی دور جائیں گی ۔“ پس انگریزی قوم میں انصاف اس وقت وقت بھی تھا ، اب بھی ہے ۔ چنانچہ آج بھی ان کے بڑے بڑے دانشور اس مسئلے پر بڑی جرات کیساتھ اپنی دیانتدارانہ رائے کا اظہار بھی کر رہے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے سازشیں بہت گہری ہیں اور بہت حد تک یہ یہودی چنگل میں آچکے ہیں آج امریکہ ذمہ دار ہے لیکن اس زمانہ میں امریکہ میں بھی انصاف تھا۔ چنانچہ صدروڑ و Wilson نے 1918 ء میں جو اصول پیش کئے اس میں انہوں نے یہ اصول پیش کیا تھا کہ امریکہ اس اصول کو ہمیشہ سر بلند رکھے گا اور اس میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہونے دے گا کہ جس علاقے کے متعلق کوئی فیصلہ کیا جا رہا ہے اس علاقے کی اکثریت کا اول حق ہے کہ وہ اپنی تقدیر کے فیصلے میں شامل ہو۔ اگر وہ نہیں مانتے تو کسی کا دنیا میں حق نہیں ہے کہ وہاں اس پہ فیصلے کو ٹھونسا جائے ۔ اس وقت امریکہ کی یہ حالت تھی چنانچہ ایک King-Crane کمیشن انہوں نے 1919ء میں بھجوایا اس King-Crane کمیشن نے بھی بڑی وضاحت کے ساتھ، بہت ہی منصفانہ رپورٹ پیش کی اور اس میں یہ لکھا کہ ہم آپ کو یہ یقین دلاتے ہیں کہ بہت بڑی طاقت کے استعمال اور بہت بڑے خون خرابے کے بغیر اسرائیل کو وہاں نافذ نہیں کیا جا سکتا اور کیوں ایسا کیا جائے اس لئے کہ دو ہزار سال پہلے ۔ یہ لوگ